بھارتی فلم کے پوسٹر سے ماورا حسین کی تصویر ہٹانے پر امیر گیلانی برس پڑے
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
بھارتی فلم صنم تیری قسم کے پوسٹر سے ماورا حسین کی تصویر ہٹانے پر ان کے شوہر اداکار امیر گیلانی بھارت پر پھٹ پڑے۔
اداکار امیر گیلانی نے اپنی اہلیہ اور معروف اداکارہ ماورا حسین کو بھارتی فلم صنم تیری قسم کے البم کور سے ہٹانے پر شدید ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے اس اقدام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فنکاروں کی وجہ سے بھارتی فلم انڈسٹری کو بین الاقوامی سطح پر بہتر پروجیکٹس میسر آئے ہیں۔
یہ اقدام حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں بھارتی حکومت نے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور میڈیا اسٹریمنگ سروسز پر پاکستانی مواد کی نمائش پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ اسی پالیسی کے تحت ماورا حسین کی تصویر اسپاٹی فائی اور یوٹیوب میوزک پر 2016 کی فلم صنم تیری قسم کے کور سے ہٹا دی گئی، حالانکہ اس فلم میں وہ مرکزی کردار میں نظر آئی تھیں۔
امیر گیلانی نے بھارتی فلم سازوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ تصاویر کو ایڈٹ کرنے کے بجائے معیاری اسکرپٹس پر توجہ دی جائے۔ اس موقع پر اداکارہ و میزبان حنا الطاف نے بھی ماورا حسین کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات فنکار کے مقام کو متاثر نہیں کرتے۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستانی فنکاروں کو بھارتی پلیٹ فارمز پر اس نوعیت کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستانی فنکاروں اور پاکستان کے مواد پر بھارت میں پابندیاں لگائی جا چکی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ماورا حسین کی امیر گیلانی بھارتی فلم
پڑھیں:
متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔