پاک بھارت کشیدگی:وزیر اعظم کا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور شیخ محمد بن زاید النہیان سے رابطہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ایک بار پھر ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں جنوبی ایشیا کی کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دو ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسرا رابطہ تھا، جو خطے میں بڑھتے ہوئے تناؤ اور اس کے اثرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی قیادت اور سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے جھوٹے دہشت گردی کے الزامات اور مسلسل جارحیت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان اشتعال انگیز اقدامات کا نوٹس لے۔ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے دونوں فریقوں سے رابطے جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے کام کرنا ان کا فرض ہے، اور دنیا کو اس وقت اسی قیادت کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان کے درمیان بھی ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا۔ وزیراعظم نے یو اے ای کی سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور اسی جذبے کے تحت بھارت کے ساتھ جنگ بندی مفاہمت پر رضامندی ظاہر کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے سندھ طاس معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اسے کبھی چیلنج نہیں ہونے دے گا۔ یو اے ای کے صدر نے جنگ بندی کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کی پرامن کوششوں کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کیا کہ
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔