ویب ڈیسک:چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نےکہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے ہیں۔

 وزیراعظم کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کے بعد اہم گفتگوکرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ وزیراعظم نے ایوان کے فلور پر مذاکرات کی آفر کی،میں نے وہ آفر قبول کی اور کہا کہ یہ بانی پی ٹی آئی اور پارٹی تک پہنچاؤں گا۔

 بیرسٹر گوہر علی خان نے کہاکہ بانی پی ٹی آئی سے اس متعلق میری کیا میٹنگ ہوئی ہے وہ پارٹی کا اندرونی معاملہ ہے،بانی پی ٹی آئی کبھی ڈیل نہیں کریں گے،ان کے بچوں کا انٹرویو دیکھ کر خوشی ہوئی ہے،وہ بہت باخبر ہیں اور انہوں نے اپنے والد کےحوصلے سے متعلق دنیا کو بتایا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آذربائیجان میں رابطہ،دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال

بیرسٹرگوہرعلی خان نے مزیدکہاکہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے بچوں یا پارٹی کو کبھی نہیں کہا کہ میرے لیے ڈیل کی کوشش کرو،بانی ہی ٹی آئی کے بچوں نے کہا کہ ان کے والد مضبوط ہیں اور ڈیل نہیں کریں گے،کسی نے اگر اپنے سورس سے خبر دی ہے تو اس کی مرضی ہے۔

 بیرسٹر گوہر علی خان نے مزیدکہاکہ میں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات سے متعلق معاملات کسی کے ساتھ شیئر نہیں کیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر علی خان نے بانی پی ٹی آئی

پڑھیں:

سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔

اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔

قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔

متعلقہ مضامین

  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم