آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنانے کا تخمینہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ 290 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنانے کا تخمینہ لگایا ہے۔
ذرائع کے مطابق ریٹ تعین کرنے کا مقصد بیرونی امداد، ادائیگیوں اور قرضوں کا تخمینہ روپوں میں لگانا ہے جبکہ رواں مالی سال 25-2024 کا وفاقی بجٹ 295 روپے فی ڈالر ریٹ پر بنایا گیا تھا۔
بجٹ میں لگ بھگ 8.5 ٹریلین قرضوں پر سود ادائیگیوں کے لیے تخمینہ لگایا گیا ہے۔ رواں مالی سال کی نسبت آئندہ بجٹ کے لیے ڈالر ریٹ میں 5 روپے کی کمی کی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال ڈیٹ سروسنگ کا حجم کم، امپورٹ بل اور مہنگائی کنٹرول میں رہ سکے گی۔ کرنسی مستحکم اور پالیسی ریٹ میں کمی کے باعث رواں مالی سال ڈیٹ سروسنگ کم ہوگی۔
رواں مالی سال ڈیٹ سروسنگ پر تقریباً 1.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رواں مالی سال ڈالر ریٹ
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔