ایکنک نے 355 ارب روپے سے زائد کے 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ایکنک نے 355 ارب روپے سے زائد کے 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔
اعلامیہ کے مطابق منصوبے ٹرانسپورٹ، توانائی، تعلیم، پانی، تجارت، سیاحت، قدرتی آفات کے بعد بحالی کے ہیں۔
اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور منصوبے کی بھی اصولی منظوری دی گئی جبکہ کوئٹہ میں منگی ڈیم، پانی کی ترسیل کے نظام سے متعلق منصوبے کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ خیبر پختونخوا میں دیہی رابطہ سڑکوں کی بہتری، سیاحت سے متعلق منصوبے کی منظوری بھی دی گئی، سندھ میں سیلاب سے متاثرہ انفرااسٹرکچر کی بحالی، تعلیم سے متعلق منصوبے منظور کیے گئے۔
اجلاس میں 100 ڈیزل الیکٹرک لوکوموٹیوز کی مرمت سے متعلق منظوری دی گئی، اسلام آباد و برہان میں ٹرانسمیشن سسٹم مضبوط بنانے کی بھی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق ایکنک کی ٹرانزٹ ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کی ترقی کے منصوبے کی منظوری دی گئی، ایف بی آر کے کسٹمز ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز کے قیام کی منظوری بھی دی گئی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: منصوبے کی کی منظوری
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا