ایکنک نے داسو ہائیڈرو پاور پلانٹ سمیت 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
ایکنک نے داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ سمیت 355 ارب روپے مالیت کے 9 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دے دی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت ایکنک کا اجلاس ہوا جس میں ٹرانسپورٹ، توانائی، تعلیم سمیت اہم شعبوں کا جائزہ لے کر ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی گئی۔
اِجلاس میں خیبرپختونخوا میں سیاحتی ترقی اور دیہی سڑکوں کی بہتری کے منصوبے بھی منظور ہوگئے۔
نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا حکومت تمام علاقوں میں پائیدار اور جامع ترقی کے لئے پرعزم ہے۔
اجلاس میں سندھ میں سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ابتدائی تعلیم کے منصوبوں، بلوچستان میں منگی ڈیم اور پانی کی ترسیل کے نظام کی منظوری دی گئی۔
اس کے علاوہ اجلاس میں 100 ڈیزل الیکٹرک انجنوں کی مرمت اور ترسیلی نظام کی بہتری کی منظوری بھی دی گئی۔ ایف بی آر کے ڈیجیٹل انفورسمنٹ اسٹیشنز اور ٹریڈ مینجمنٹ سسٹم کے منصوبے منظور کر لئے گئے۔
اجلاس میں داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی اصولی منظوری دے دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی منظوری
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔