چینی وزارتِ تجارت کا درآمدی گائے کے گوشت پر حفاظتی اقدامات کی تحقیقاتی مدت میں توسیع کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
بیجنگ : عوامی جمہوریہ چین کے “حفاظتی اقدامات کے ضوابط” کے تحت، چینی وزارتِ تجارت نے 27 دسمبر 2024 کو اپنے 2024 کے اعلان نمبر 60 کے ذریعے درآمدی گائے کے گوشت پر حفاظتی اقدامات کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔ صورت حال پیچیدہ ہونے کی بنا پر، وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس مقدمے کی تحقیقاتی مدت 26 نومبر 2025 تک بڑھا دی جائے۔ بدھ کے روز وزارت کے ترجمان کے مطابق گائے کے گوشت پر حفاظتی اقدامات کی تحقیقات شروع ہونے کے بعد، وزارتِ تجارت نے قانونی طریقہ کار کے مطابق معائنہ جاری رکھا ہے تاکہ تحقیقاتی عمل معروضی اور منصفانہ رہے۔اس کیس پر مختلف حلقوں کی گہری نظر ہے، تحقیقاتی ادارہ تمام فریقوں کے مؤقف اور دستاویزات کا جامع جائزہ لے رہا ہے، اور قانون کے دائرے میں دانش مندی کے ساتھ جائزہ لے رہا ہے کہ آیا حفاظتی اقدامات نافذ کرنے کی قانونی شرائط پوری ہوتی ہیں۔چین تمام فریقوں کے ساتھ رابطے میں رہے گا تاکہ ایک سازگار اور مستحکم بین الاقوامی تجارتی ماحول کو مشترکہ طور پر برقرار رکھا جا سکے۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حفاظتی اقدامات
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں