شیر افضل مروت ن لیگی سینیٹر افنان اللہ پر تشدد کیس سے بری
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پی ٹی آئی رہنماءشیر افضل مروت کو سینیٹر افنان اللہ پر تشدد کیس سے بری کردیا۔
نجی ٹی وی سما کے مطابق اسلام آباد کے جوڈیشل مجسٹریٹ یاسر محمود نے شیر افضل مروت کو بری کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ تفتیش کے دوران شیر افضل مروت کیخلاف کوئی مجرمانہ شواہد سامنے نہیں آئے، مدعی عدالت میں پیش ہی نہیں ہوئے، جس سے ان کی عدم دلچسپی ظاہر ہوتی ہے۔
مجسٹریٹ نے کہا کہ کیس کا ٹرائل چلایا بھی جائے تو سزا کا کوئی امکان نہیں، عدالت نے شیر افضل مروت کی بریت کی درخواست منظور کرلی۔
شیر افضل مروت کیخلاف مسلم لیگ ن کے سینیٹر افنان اللہ پر ٹی وی شو کے دوران تشدد کے الزام میں مقدمہ تھانہ آبپارہ میں درج کیا گیا تھا۔
کنول شوذب کی بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق درخواست مسترد
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: شیر افضل مروت
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔