دو سال سے ملزم جیل میں ہے،عدالت 727دن بعد تفتیش کی اجازت نہ دے،وکیل سلمان صفدر
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 8مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران وکیل سلمان صفدر نے کہاکہ دو سال سے ملزم جیل میں ہے،727دن کے بعد انہوں نے تفتیش کیلئے درخواست دائر کی،اس سے پہلے بھی یہی تفتیش مکمل کی جا سکتی تھی،یہ چاہتے ہیں کہ ثبوت اور شواہد بنائے جائیں،عدالت انہیں اس کی اجازت نہ دے اور ضمانت منظور کرے۔
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی 8مقدمات میں ضمانت کی درخواستوں پر سماعت ہوئی،جسٹس شہباز رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سماعت کی، پراسیکیوٹر نے کہابانی پی ٹی آئی سے تفتیش کیلئے انسداددہشتگردی عدالت میں درخواست دائر کی،بانی پی ٹی آئی کے فوٹو گرامیٹک اور پولی گرافک ٹیسٹ کروانے کی استدعا کی، ماتحت عدالت نے درخواست منظور کرلی،عدالت اس تفتیش کے مکمل ہونے تک مہلت دے۔
کراچی: پانی بجلی کو ترسے عوام سڑکوں پر آگئے، ٹینکر آپریٹرز کیخلاف تحقیقات شروع
بانی پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے کہا کہ دو سال سے ملزم جیل میں ہے،727دن کے بعد انہوں نے تفتیش کیلئے درخواست دائر کی ،اس سے پہلے بھی یہی تفتیش مکمل کی جا سکتی تھی،یہ چاہتے ہیں کہ ثبوت اور شواہد بنائے جائیں،عدالت انہیں اس کی اجازت نہ دے اور ضمانت منظور کرے،اس تفتیش کیلئے ملزم کا جیل میں ہونا ضروری نہیں،ان ثبوتوں کی بنیاد پر ددرخواستیں زیرالتوا نہیں رکھی جا سکتیں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی تفتیش کیلئے تفتیش کی جیل میں
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
اسلام آباد:ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔
واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔