گوگل کی اینڈرائیڈ صارفین کیلئے اب تک کی سب سے بڑی مفت اپ گریڈ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
گوگل اپنے اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں برسوں کی سب سے بڑی مفت اپ گریڈ کرنے جا رہا ہے جس میں ایک نیا ڈیزائن اور فون کو حسب ضرورت بنانے کے نئے طریقے شامل ہیں۔ اس اپ گریڈ میں “Material 3 Expressive” نامی ایک نیا فیچر متعارف کرایا جائے گا جو صارفین کو اپنے آلات کی شکل و صورت کو بالکل نئے انداز میں تبدیل کرنے کی اجازت دے گا، جس سے ان کا فون منفرد نظر آئے گا۔
دی مرر کے مطابق نئے اینڈرائیڈ ورژن کے انسٹال ہونے کے بعد صارفین اپنی ہوم سکرین کو ڈیکوریٹ کرسکیں گے، ظاہری شکل میں تبدیلی کر سکیں گے اور سیٹنگز میں جا کر اپنے فون کو اپنی پسند کے مطابق بنا سکیں گے۔ اس میں اپ ڈیٹ شدہ ڈائنامک کلر تھیمز، ریسپانسیو کمپوننٹس اور نمایاں ٹائپوگرافی بھی شامل ہیں، جس کا مطلب ہے کہ صارفین اپنے فون کو اپنے انداز اور ترجیحات کے مطابق ڈھال سکتے ہیں۔
نئے اپ ڈیٹ میں بہتر اینیمیشنز بھی شامل کی جا رہی ہیں، جس سے ہر چیز زیادہ قدرتی اور لچکدار نظر آئے گی۔ مثال کے طور پر جب کوئی نوٹیفکیشن ہٹایا جائے گا تو سکرین پر موجود دیگر پیغامات ہلکے سے رد عمل ظاہر کریں گے۔ چیزوں کو مزید انٹرایکٹو بنانے کے لیے نئی ہیپٹکس بھی شامل کی گئی ہیں۔
اس اپ گریڈ میں کوئیک سیٹنگز میں بھی اپ ڈیٹ شامل ہے، جس سے صارفین اپنی پسندیدہ ایکشنز جیسے کہ فلیش لائٹ اور ڈو ناٹ ڈسٹرب کو مزید آسانی سے استعمال کر سکیں گے۔ ایک بالکل نیا لائیو اپ ڈیٹس فیچر بھی شامل کیا گیا ہے جو صارفین کو منتخب ایپس سے پیشرفت کی اطلاعات کو آسانی سے ٹریک کرنے میں مدد کرے گا۔ مثال کے طور پر اوبر ایٹس کا آرڈر دینے کے بعد ڈیلیوری کی پیشرفت کو ٹریک کرنے کے لیے ایک نظر میں نظر آنے والی لائیو اپ ڈیٹ دکھائی دے گی۔
اس اپ گریڈ کے جاری ہونے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی گئی ہے لیکن توقع ہے کہ اس سال کے آخر میں مزید خبریں سامنے آئیں گی۔ امکان ہے کہ پکسل فونز ان تبدیلیوں کو دیکھنے والے پہلے فون ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔