پاک بھارت اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
—فائل فوٹو
پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے رابطے کے بعد بھارتی فوج کا بیان سامنے آیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ بھارت اور پاکستان دونوں نے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بھارتی فوج نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت نے الرٹ کی سطح کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات جاری رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان جنگ بندی کے بعد تیسرا رابطہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز (ڈی جی ایم اوز) کے درمیان جنگ بندی کے بعد تیسرا رابطہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بدھ کو ہونے والا رابطہ جنگ بندی کے بعد تیسرا رابطہ تھا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان بدھ کی دوپہر ہاٹ لائن کے ذریعے رابطہ ہوا، جس میں دونوں افسران نے زمینی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان تیسرا رابطہ مثبت رہا، فریقین نے جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ایم اوز تیسرا رابطہ کے درمیان کے بعد
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔