اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جمہوریہ آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، ، سے آج ٹیلی فون پر بات کی. گفتگو کے دوران وزیراعظم نے جنوبی ایشیا کے حالیہ بحران میں پاکستان کے ساتھ آذربائیجان کی مضبوط یکجہتی اور حمایت پر صدر علیوف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر علیوف کی مستقل حمایت پاکستانی عوام سے ان کی بے پناہ محبت اور پیار کا ایک اور مظہر ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی پر آذربائیجان کے برادر عوام کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ایک بار پھر دونوں ممالک کے درمیان پائیدار اور دیرینہ دوستی کا اظہار ہوا ہے، جو ہمیشہ سچے بھائیوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے علاقائی امن کیلئے بھارت کے ساتھ جنگ ​​بندی مفاہمت پر اتفاق کیا ہے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، انہوں نے بھارتی قیادت کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا، اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مستقبل میں کسی بھی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے، پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا بھرپور دفاع کرے گا۔

وزیرِ اعظم نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازعہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیاد ہے جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں، انہوں نے کشمیر کاز کے لیے پاکستان کی اصولی حمایت پر صدر علیوف کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان آذربائیجان تعلقات پر وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان خصوصی اور وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والے برادرانہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس دوستی کو باہمی طور پر فائدہ مند اقتصادی شراکت داری میں بدلنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ اس تناظر میں، انہوں نے پاکستان کے مختلف شعبوں میں آذربائیجان کی طرف سے 2 ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے صدر علیوف کو جلد پاکستان کا سرکاری دورے کی دعوت کی تجدید بھی کی۔ صدر علیوف نے دورے کی دعوت قبول کر لی۔

صدر علیوف نے پاکستان کی شاندار کامیابی پر وزیراعظم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے جنگ بندی مفاہمت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ آذربائیجان پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں اپنے برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستان کے صدر علیوف نے کے لیے انہوں نے کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف

گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20  گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ