Express News:
2026-07-24@04:50:24 GMT

بھارت…دل کے ارماں آنسوئوں میں بہہ گئے

اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT

شکر کے ساتھ تمام تعریفیں ربَ ذوالجلال کے لیے ہیں جس نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ملیامیٹ کیا اور پاکستانی افواج اور عوام کو سرخرو کیا۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت اور وزیرِ اعظم جناب نریندر مودی کا بھی بہت ’’شکریہ‘‘ کہ اس نے غیر دانشمندانہ اقدامات اُٹھا کر سیاسی خلفشار میں مبتلا پاکستانی قوم کو بنیانَ مرصوص بنا دیا۔جناب مودی کی بے وقوفیوں نے ہماری قوم کو ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم تلے اکٹھا کردیا۔ہمارے شہبازوں نے وہ کارنامے انجام دیے جو خواب و خیال میں بھی مشکل سے ہی آ سکتے ہیں۔

جناب نریندر مودی نے ہمیں ایک سنہری موقع عطا کیا کہ ہم دیکھ سکیں کہ ہماری مسلح افواج کس پانی میں ہیں اور اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ چارروزہ جنگ کے خاتمے پر ہماری مسلح افواج نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ہمارے شاہینوں نے پہلے ہلے میں ہی بھارتی فضائیہ کو نا قابلِ تلافی نقصان پہنچا کر اپنے جذبے،لگن اور بہترین تربیت کا ثبوت فراہم کیا۔ہماری بری فوج کی لڑائی کے لیے تیاری اتنی بھرپور تھی کہ بھارتی افواج ہماری سرحد کی طرف بڑھ ہی نہ سکی ،ہماری بحریہ نے بندرگاہوں کو کھلا رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔بھارتی بحریہ ہمارے ساحلوں سے سیکڑوں کلومیٹر دور ہی رہی۔جناب مودی کا شکریہ کہ پاکستانی قوم کے اندر بھرپور اعتماد جا گزین ہوا ۔

چار روزہ پاک بھارت جنگ نے ایک نئی حقیقت کو جنم دیا ہے۔6اور7مئی کی رات جب بھارت نے پاکستان کے اندر چھ مقامات کو میزائلوں سے نشانہ بنایا،اس وقت ہماری بہادر مسلح افواج بھارتی زمینی حملے سے نبڑنے کے لیے بالکل تیار تھیں لیکن دشمن کو سرحد عبور کرنے کا حوصلہ نہ ہوا۔

بھارتی فضائیہ اپنے نئے حاصل کردہ ریفال لڑاکا طیاروں کے ساتھ حرکت میں آئی تو پاک فضائیہ نے نہ صرف کسی بھارتی لڑاکا یا بمبار طیارے کو سرحد عبور نہ کرنے دی بلکہ خود اپنی سرحدوں کے اندر رہتے ہوئے دشمن کی فضائیہ کے ریفال سمیت چار سے چھ طیارے مار گرائے ۔ اس فضائی جھڑپ کے بعد بھارتی فضائیہ کو دوبارہ سامنے آنے کی ہمت نہ ہوئی۔

بھارت نے اس کے بعد ڈرونز کا استعمال کیا ۔10مئی کی رات دشمن نے رات کے اندھیرے میں پاکستان ایئر فورس کی 3 بیسوں پر میزائلوں سے حملہ کیا تو پاکستان کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور فجر کے وقت پاکستان کی مسلح افواج نے تین کے جواب میں بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں 26 ایئر بیسوں اور فوجی ٹھکانوں کو اس طرح نشانہ بنایا کہ ایک ڈیڑھ گھنٹے کے اندر ہی بھارت کی لیڈر شپ نئی حقیقت سے آشنا ہوگئی۔پاکستان کا بھارت پر حملہ اتنا جامع،تند و تیز اور بھرپور تھا کہ دشمن کے ہوش ٹھکانے آ گئے۔

پاکستانی ڈرونز نے مودی جی کی ریاست گجرات میں تہلکہ مچایا اور دہلی میں ایک بڑی اہم مارکیٹ جلنے لگی۔1971 سے لے کر2025اپریل تک یہ خیال کیا جاتا تھا کہ بھارتی افواج اتنی بڑی اور طاقتور ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ روایتی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اسے اپنی بقا کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کا سہارا لینا پڑے گا لیکن یہ چار روزہ جنگ تو روایتی جنگ تھی۔اس چار روزہ جنگ نے خطے میں اسٹریٹیجک بیلنس تبدیل کر دیا ہے۔ ایک نئی حقیقت نے جنم لے لیا ہے کہ پاکستانی افواج اب روایتی جنگ میں بھی بھارتی افواج کو لرزہ بر اندام کر سکتی ہیں۔ایک نیا ،پر اعتماد پاکستان جنم لے چکا ہے۔

فروری 2019میں جب بھارتی فضائیہ نے بالاکوٹ میں بم گرا کر ایک کوا ہلاک کیا تھا تب بھی اور اب اس چار روزہ جنگ میںپاکستان ایئر فورس نے تیاری اور پروفیشنل مہارت کا بہترین ثبوت دیا ۔ہماری ایئر فورس نے پاکستان کو اس قابل کر دیا ہے کہ بری اور بحری افواج کو اپنا ہاتھ اور زورِ بازو آزمانے کا کوئی خاص موقع ہی نہیں ملا۔پاکستان نے چار روزہ جنگ میں چینی ہائی ٹیک ٹیکنالوجی کی بہت کامیاب مارکیٹنگ کی ہے۔

چین نے بہت مشکل وقت میں پاکستان کی بھرپور مدد کی ہے لیکن پاکستان نے چینی ٹیکنالوجی کو بہت کامیابی سے اس طرح استعمال کیا ہے کہ ساری دنیا مبہوت ہے۔دنیا بھر میں امریکی ٹیکنالوجی اور خاص کر ایف سولہ و ایف 35 کا بہت چرچہ ہے لیکن اس چار روزہ جنگ میں کسی نے ایف سولہ کا شاید ذکر بھی نہ سنا ہوگا۔

 پہلگام کے افسوسناک واقعے کے بعد اور پھر چار روزہ جنگ کے ابتدائی تین دنوں میں امریکی صدر یہ کہتے رہے کہ امریکا کا اس جنگ سے کیا لینا دینا لیکن 10مئی کی صبح جب پاکستان نے جوابی کارروائی کا حق استعمال کیا تو وہی صدر ٹرمپ فوری جنگ بندی کے لیے سرگرم ہو گئے اور شام چار بجے تک دونوں ممالک کو جنگ بندی پر راضی کر لیا۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے جب اپنے نام نہاد اسٹریٹیجک پارٹنر کی دھلائی ہوتی دیکھی تو فوراً جنگ بند کروا دی۔

اس سے اگلے روز جناب ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں مسئلہ کشمیر کو حل کروانے کا اعلان کیا۔صدر ٹرمپ کے اس بیان پر بات کرتے ہوئے مشہور بھارتی سیاست دان ششی تھرور نے کہا کہ اس بیان نے بھارت کو ایک قدم پیچھے دھکیل دیا ہے۔بھارت نے بہت محنت کر کے مسئلہ کشمیر کو بھارت کا اندرونی مسئلہ بنا دیا تھا لیکن اب ایک بار پھر یہ مسئلہInternationalizeہو گیا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ایک لمبے عرصے تک ہر معاملے میں مغربی دنیا بھارت اور پاکستان کو ایک ساتھ نتھی کرتی رہی ہے لیکن پچھلی تین دیائیوں سے بھارت نے کامیاب کوشش کر کے اپنے آپ کو اس جوڑ سے آزاد کروا لیا تھا۔اب چار روزہ جنگ کے بعد خدشہ ہے کہ وہ جوڑ واپس لوٹ آئے گا۔

چار روزہ جنگ میں پاکستان نے پہلی دفعہ Information warfareمیں بھارت کوآؤٹ کلاس اور آؤٹ اسمارٹ کیا ہے۔حکومتِ پاکستان اور آئی ایس پی آر نے بہت محنت سے کام کیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ میں ایئر وائس مارشل اورنگ زیب نے اتنی خوبصورتی اور کمال مہارت سے جنگ کا نقشہ کھینچا کہ ان کے سامنے بیٹھا انٹرنیشنل میڈیا یقین کیے بغیر نہ رہ سکا۔

اس کے بعد عالمی میڈیا میں بھارت کی ناکام جنگی حکمتِ عملی کا چرچہ ہونے لگا۔چار روزہ جنگ نے یہ بھی ثابت کیا کہ چین اور پاکستان کا باہمی تعاون مثالی ہے۔چینی سٹیلائٹ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جو 44 مختلف سٹیلائٹس کے جھرمٹ Constellation پر مشتمل ہے۔خلا میں موجود یہ دنیا کا سب سے بڑا سٹیلائٹ جھرمٹ ہے۔چین نے پاکستان کو اسConstellationتک رسائی دی ہوئی ہے،یوں پاکستان بھارت کی ہر نقل و حرکت کو بخوبی دیکھ رہا ہے۔پاکستان نے الیکٹرانک وار فیئراور ڈیٹا لنکنگ میں کمال سرپرائز دیا ہے۔

امید ہے بھارت جو سبق پاکستان کو سکھانے چلا تھا،ہزیمت اٹھا کر خود سیکھ چکا ہوگا۔بھارت باز آنے والا نہیں اس لیے ہمیں از حد چوکنا رہنا ہوگا۔اﷲ کی مدد سے ہم نے کامیابی سمیٹی ہے۔دنیا کے کئی اہم ممالک کے وزرائے خارجہ پاکستان سے رابطہ کر رہے ہیں۔پاکستان مزید ابھرے گا بس ہمیں سیاسی خلفشار سے بچنا،اخلاقی اقدار پر جمنا،،معیشت کو مضبوط بنانا اور سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنوانا ہو گا۔ہمارے وزرا کو غیر ضروری بیانات سے پرہیز بھی ضروری ہے۔قوم کو نئی اسٹریٹیجک اہمیت مبارک ہو۔پاکستان کا نام اورپرچم سر بلند ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چار روزہ جنگ میں بھارتی فضائیہ پاکستان کو پاکستان نے مسلح افواج پاکستان کا بھارت نے کے اندر دیا ہے کے لیے کے بعد

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا