جنگ میں بھارت کو کم ازکم 3 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ جنگ میں انڈیا کا کم ازکم تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جب کہ ہمارے ہاں جانی نقصان ہوا ہم نے فوجی تنصیبات پر جب کہ بھارت نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 7 مئی کو 70 سے 80 بھارتی طیارے پاکستان آئے اور بھارتی طیاروں نے 24 پے لوڈز (بارودی مواد) ریلیز کیے، یہ دہشت گردوں پر نہیں مساجد اور معصوم شہریوں پر گرائے، ہم نے ان کے پانچ طیارے گرائے۔
تجارتی خسارہ بڑھنے کے باوجود اپریل میں ملکی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان سے جنگ میں انڈیا کا کم ازکم تین ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے جب کہ ہمارے ہاں جانی نقصان ہوا وجہ یہ کہ بھارت نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جب کہ ہم نے بھارت کی صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا کسی شہری آبادی پر حملہ نہیں کیا، ہمارے شہدا میں زیادہ تعداد عورتوں، بچوں اور معمر افراد کی ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نقصان ہوا
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک