اسلام آباد:

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں انہوں نے پاک بھارت کشیدگی اور پاکستان کے موقف سے اگاہ کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کا پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال، بالخصوص پاک بھارت جنگ بندی پر تفصیلی بات چیت کی۔

نائب وزیراعظم نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کو بھارت کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا اور بھارتی کارروائیوں کو پاکستان کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ چارٹر اور بین الریاستی تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لئے پاکستان کے ردعمل کو محدود، عین نشانے پر اور متناسب رکھا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کشیدگی کم کرنے میں برطانیہ کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہا۔ فریقین نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تحمل اور مستقل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان برطانیہ دو طرفہ تعلقات پر بھی وسیع بات چیت کی تجارت، معاشی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔

اسحاق ڈار نے تعلیم، صحت اور موسمیاتی مزاحمت کے شعبوں میں برطانیہ کی قیمتی معاونت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

فریقین نے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور مضبوط عوامی روابط پر مبنی پاکستان اور برطانیہ کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کو دہرایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار