اسحاق ڈار نے برطانوی وزیر خارجہ کو بھارتی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں سے آگاہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد:
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکریٹری خارجہ ڈیوڈ لیمی سے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں انہوں نے پاک بھارت کشیدگی اور پاکستان کے موقف سے اگاہ کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کا پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر پرتپاک استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جنوبی ایشیا کی حالیہ صورتحال، بالخصوص پاک بھارت جنگ بندی پر تفصیلی بات چیت کی۔
نائب وزیراعظم نے برطانوی سیکرٹری خارجہ کو بھارت کی بلااشتعال اور جارحانہ کارروائیوں سے آگاہ کیا اور بھارتی کارروائیوں کو پاکستان کی خودمختاری، بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ چارٹر اور بین الریاستی تعلقات کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لئے پاکستان کے ردعمل کو محدود، عین نشانے پر اور متناسب رکھا گیا۔ نائب وزیراعظم نے کشیدگی کم کرنے میں برطانیہ کے تعمیری اور مثبت کردار کو سراہا۔ فریقین نے خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے تحمل اور مستقل مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان برطانیہ دو طرفہ تعلقات پر بھی وسیع بات چیت کی تجارت، معاشی تعاون اور ترقیاتی شراکت داری میں ہونے والی پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اسحاق ڈار نے تعلیم، صحت اور موسمیاتی مزاحمت کے شعبوں میں برطانیہ کی قیمتی معاونت کو سراہا۔ دونوں رہنماؤں نے موسمیاتی تبدیلیوں اور پائیدار ترقی سمیت باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فریقین نے باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور مضبوط عوامی روابط پر مبنی پاکستان اور برطانیہ کے تاریخی اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کو دہرایا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :