بھارت بلوچستان اور گلگت بلتستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا، جاوید شیخ
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
کراچی(شوبز ڈیسک)سینئر اداکار جاوید شیخ نے بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی پر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت تو کئی سال سے بلوچستان اور گلگت بلتستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا لیکن اب اسے پاکستان کی طاقت کا اندازہ ہوگیا۔
جاوید شیخ نے نجی ٹی وی کے خصوصی پروگرام یومِ تشکر میں شرکت کی، جہاں انہوں نے بھارت کی شکست اور پاکستان کی فتح پر کھل کر گفتگو کی۔
پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جاوید شیخ نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور کہا کہ کافی عرصے سے پوری قوم کو ایک پلیٹ فارم پر یکجا کرنے کی کوششیں کی جارہی تھیں اور حالیہ دنوں میں بھارت کے خلاف قوم کے جذبے نے سب کو حیران کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی، وہ ہمیشہ پاکستان کو کمزور سمجھتا رہا، پوری دنیا بھی یہی کہتی رہی کہ بھارت بہت بڑی طاقت ہے لیکن دنیا نے دیکھا کہ کیا ہوا۔
اداکار کے مطابق بھارت ایک بڑی طاقت ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہم پر کرم کیا، ہم اپنی افواج اور چین کو مدد فراہم کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ بھارت کئی سال سے بلوچستان اور گلگت بلتستان پر قبضے کے خواب دیکھ رہا تھا اور اس نے اس حوالے سے مکمل منصوبہ بھی بنا رکھا تھا لیکن افواج پاکستان نے اس کے منصوبے پر پانی پھیر دیا۔
خیال رہے کہ بھارت کے خلاف ”آپریشن بنیان المرصوص“ کی کامیابی کے بعد ملک بھر میں 16 مئی کو یومِ تشکر جوش و خروش سے منایا جارہا ہے، پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے کر چند گھنٹوں میں ہی بھارتی افواج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
یہ آپریشن مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو پیش آنے والے واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور 7 مئی کو کیے گئے جارحانہ اقدامات کے ردِعمل میں کیا گیا تھا۔
پاک فوج نے 10 مئک کو بھارت کے متعدد شہروں اور فوجی تنصیبات پر حملے کرکے انڈیا کا دفاعی نظام بھی تباہ کردیا تھا۔
مزیدپڑھیں:عالمی برادری بھارت کو جارحیت سے روکے، جب بھی مذاکرات ہوں گے کشمیر پر بات ہوگی، پاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: جاوید شیخ بھارت کے کہ بھارت
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
پیٹرول کی یومیہ قیمتیں بڑھنے سے شہری پریشان اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں کے یومیہ تعین کا نظام نافذ ہونے کے بعد سے آج 24 مئی تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ کیا گیا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ نے عام انسان کی زندگی کو اجیرن بنا دیا ہے صرف پٹرول مہنگا نہیں ہوتا بلکہ روزمرہ عام استعمال کی اشیاء بھی اب روزانہ کی بنیاد پر مہنگی ہونے لگی ہے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام زندہ رہنے کے لیے صرف سانسیںلے رہے ہیں کیونکہ روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے صوبائی دارالحکومت کے مختلف علاقوں کے پٹرول پمپوں پر لوگوں سے بات چیت کی اور ان سے پوچھا کہ آخری بار گاڑی یا موٹرسائیکل کی ٹنکی کب مکمل بھروائی تھی۔
اس دوران یہ دلچسپ انکشاف ہوا کہ 90 فیصد شہریوں کو یہ یاد ہی نہیں تھاکہ انہوں نے آخری بار کب اپنی گاڑی کی ٹنکی فُل کروائی ہے۔
گاڑی میں سوار شہری اکبر امجد کاشف عقیل نے بتایا کہ میں نے دو ہزار کا تو کبھی تین ہزار اگر بہت حد ہوئی تو پانچ ہزار کا پیٹرول ڈلوایا تھا جبکہ موٹر سائیکل سوار تو ایک لیٹر بھی پورا نہیں ڈلواتے کوئی 200 روپے کا تو کوئی 300 روپے کا پٹرول بھرواتا ہے۔
شہر کے مختلف پمپس کے دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کچھ موٹرسائیکل سواروں 2000 یا تین ہزار کا اپنی موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوایا جب ان سے پوچھا تو انہوں نے لمبا سانس لے کر اس خواہش کا اظہار کیا کہ جب قیمتیں اس قابل ہو جائیں گی تو شاید ہم اپنی زندگیوں میں مو ٹر سائیکل کی ٹینکی بھی فل کرا سکیں، مجبوری میں اتنی رقم خرچ کی ہے اب تو جتنی ضرورت ہوتی ہے ڈلوا کر گزارہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیںپیٹرولیم مصنوعات موبائل فون، انٹرنیٹ سروسز کے بعد ادویات بھی مہنگی ہونے کا خدشہ
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز بھی اضافہ
6 روز میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 63 روپے سے زائد کا اضافہ ہوا
کار سوار امتیاز کے مطابق اس نے چار مہینے پہلے گاڑی کی ٹنکی فل کرائی تھی اور اج وہ کبھی 2ہزار کا تو کبھی ڈھائی ہزار کا پیٹرول ضرورت کے تحت ڈلوا رہے ہیں کیونکہ افس جانا ہے یا بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم مصںوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کی وجہ سے بچوں کو پک اینڈ ڈراپ کرنے والے ٹرانسپورٹرز نے بھی کرائے میں اس قدر اضافہ کر دیا کہ وہ پہنچ سے باہر ہو گیا اب بچوں کو لانے لے جانے کے لیے ہی صرف گاڑی کا استعمال کرتا ہوں یا پھر کوئی ہنگامی حالت ہو تو نکل جاتا ہوں۔
پاکستان پیٹرولیم اونر ایسوسی ایشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اب روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے رد و بدل کی وجہ سے پیٹرول کی کھپت میں 35 سے 40 فیصد تک کمی ائی ہے اور اب تو پمپ مالکان کے خرچے بھی پورے نہیں ہو رہے۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہیں دینا بھی مشکل ہو گیا ہے کیونکہ ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے بجلی کے بل پہلے جو پیٹرول پمپ کے دو ڈھائی لاکھ اتے تھے اب وہ چار پانچ لاکھ آنے لگے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسی طرح دیگر اخراجات میں بھی بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ایک طرف عوام پریشان ہے تو دوسری طرف پٹرول فروخت کرنے والے بھی پریشان دکھائی دیتے ہیں، کسی زمانے میں مشہور تھا کہ اس کے تو پٹرول پمپس ہیں ان کی کس چیز کی فکر ہے جتنی مرضی گاڑیاں رکھے چلائے اس نے کون سے اپنی جیب سے گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانا ہے۔
مالک نے کہا کہ اب حالات یہ ہو چکے ہیں کہ اکثر گھروں میں تین تین چار چار گاڑیاں تو نظر اتی ہیں مگر چلتی صرف ایک عادی ہی ہے اگر حالات یہی رہے تو عنقریب مزید سینکڑوں لوگ پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جب سے پیٹرول مہنگا ہوا ہے پبلک ٹرانسپورٹ میں رش زیادہ ہو گیا ہے لیکن بہت سارے لوگوں کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ ان کے علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ نہیں چلتی اگر چلتی بھی ہے تو کئی میل دور جا کر پک اینڈ ڈراپ ملتا ہے اس لیے لوگ مجبور ہیں کہ وہ اپنی موٹر سائیکل پہ یا گاڑی پہ سفر کریں۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول مہنگا ہونے سے اب ٹنکی فل کرانا صرف ایک خواہش ہی رہ گی ہے اور جو حالات ہو چکیں ہیں ان میں ٹینکی فل کرانا ناممکن۔ ہو چکا ہے۔