اسرائیل اور بھارت کا اتحاد امت مسلمہ کیخلاف سنگین سازش ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
کوئٹہ میں ریلی سے خطاب کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے عالمی استعمار اور صیہونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا یہود و نصاریٰ ہرگز امت مسلمہ کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ اہل ایمان آپس میں نرم دل اور باہمی محبت و اخوت سے سرشار ہوتے ہیں، جبکہ کفار و مشرکین کے مقابلے میں سخت اور باہمت ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان کے 25 کروڑ غیور عوام اپنے ایمانی جذبے سے وطن عزیز کے چپے چپے کی حفاظت کے لیے پرعزم ہیں۔ دشمن کی مکروہ سازشیں، خصوصاً مودی سرکار کے ناپاک عزائم، خاک میں ملا دی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مرکزی مسلم لیگ کے زیر اہتمام وطن عزیز پاکستان کی کامیابی اور آپریشن "بنیان مرصوص" کی کامرانی پر یوم تشکر کے سلسلے میں برآمد ہونے والی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یوم تشکر کی اس ریلی میں مجلس وحدت مسلمین بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری علامہ سہیل اکبر شیرازی سمیت مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی شخصیات سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور وطن عزیز کے دفاع، مظلومین عالم کی حمایت اور امت مسلمہ کے اتحاد کا عزم دہرایا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کلمہ طیبہ کے سائے تلے پوری امت مسلمہ ایک جسد واحد کی مانند ہے۔ اگر جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو پورا جسم اس کا احساس کرتا ہے۔ کشمیر اور فلسطین کے مظلوموں کا درد ہم اپنے دل میں محسوس کرتے ہیں اور ان کی حمایت کو اپنا دینی و اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے عالمی استعمار اور صیہونی طاقتوں کے گٹھ جوڑ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا یہود و نصاریٰ ہرگز امت مسلمہ کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے ہیں۔ اسرائیل اور بھارت کا اتحاد امت مسلمہ کے خلاف سنگین سازش ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام مسلم ممالک باہمی اختلافات کو بھلا کر ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کریں تاکہ دشمن کی ہر سازش کو ناکام بنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: امت مسلمہ کے علامہ مقصود کرتے ہوئے
پڑھیں:
غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔
یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔
اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔
آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔
آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
غذائی قلت غزہ فلسطین