کوہستان کرپشن اسکینڈل، نامزد ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کیلئے درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
پشاور:
خیبرپختونخوا میں کوہستان کرپشن اسکینڈل میں نامزد ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) قومی احتساب بیورو (نیب) کے احکامات کی توثیق کے لیے احتساب عدالت میں درخواست دائر کر دی گئی۔
احتساب عدالت میں دائر درخواست میں نیب پراسیکیوٹرحبیب اللہ بیگ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نیب اس وقت کوہستان اسکینڈل کی انکوائری کر رہی ہے اور ملزمان کے نام پر بہت سے اثاثے نکل آئے ہیں جس میں گاڑیاں بنگلے اور دکانیں وغیرہ شامل ہیں۔
درخواست میں کہا گیا کہ ڈی جی نیب نے اس ضمن میں باقاعدہ طور پر ان ملزمان کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
احتساب عدالت کے جج رجب علی نے نیب کی جانب سے دائر مختلف درخواستوں پر سماعت کی اور نیب پراسیکیوٹر حبیب اللہ بیگ نے عدالت کو بتایا کہ اس وقت اسکینڈل سے متعلق تحقیقات جاری ہے اور نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب کو جو معلومات ابھی تک ملی ہیں، ان میں ملزمان کے اثاثوں کی فہرست عدالت میں جمع کی گئی ہے اور ڈی جی نے اس ضمن میں باقاعدہ طور پر اس حوالے سے ان اثاثے منجمد کرنے کا حکم پہلے ہی جاری کردیا ہے۔
پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب قانون کا سیکشن 12 کہتا ہے کہ ان احکامات کی توثیق احتساب عدالت سے لازمی ہے۔
احتساب عدالت کو بتایا گیا کہ مختلف درخواستیں دائر کی گئی ہیں اس لیے تمام درخواستوں کو یکجا کیا جائے، جس پر احتساب عدالت کے جج نے تمام درخواستوں کو یکجا کرتے ہوئے سماعت 22 مئی تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں ایک بڑا مالیاتی اسکینڈل سامنے آیا ہے جس میں قومی خزانے سے 40 ارب روپے نکالنے کا انکشاف ہوا ہے اور اس ضمن میں تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
خیبرپختونخوا کی صوبائی حکومت نے بھی اس ضمن میں متعلقہ حکام کے خلاف تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے متعدد افسران اور دیگر عملے کو معطل کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: احتساب عدالت ملزمان کے ہے اور
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔