اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں، جسٹس اعجاز اسحٰق
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں، جسٹس اعجاز اسحٰق WhatsAppFacebookTwitter 0 16 May, 2025 سب نیوز
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان کا کہنا ہے ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان کی عدالت سے توہینِ عدالت کیس لارجر بینچ منتقل کرنے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں ڈپٹی رجسٹرار و دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔
سنگل بینچ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ کی جانب سے توہینِ عدالت کی کارروائی معطل کرنے کے آرڈر پر حیرت کا اظہار کیا، جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے ریمارکس دیے کہ آپ ڈویژن بینچ کا آرڈر بتا رہے ہیں کہ اس عدالت کو توہینِ عدالت کیس چلانے سے روک دیا گیا ہے، یہ تو ڈویژن بینچ کی جانب سے اختیار سے تجاوز کیا گیا ہے۔
فاضل جج کا کہنا تھا طے شدہ قانون ہےکہ ایک جج کے عبوری حکم کے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت نہیں ہوتی، ڈویژن بینچ کا یہ حکم اپنے سینئر ساتھی جج کی اتھارٹی کے خلاف ہے، اگر میں اختیار کے اس تجاوز کو تسلیم کرلوں تو سائلین کو میری عدالت پر اعتماد کیوں رہےگا؟ کل کو میری عدالت سے جاری حکم پر کوئی عملدرآمد کیوں کرے گا؟
جسٹس سردار اعجاز اسحٰق کا کہنا تھا آرڈرز پر عملدرآمد کیوں ہو گا کہ جس لمحے میں توہینِ عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کروں وہ ڈویژن بینچ معطل کر دے گا۔
عدالت نے ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار سے استفسار کیا آپ نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کرنے والی بات عدالت سےکیوں چھپائی؟ انہوں نے آپ کو سنا اور سمجھ لیا کہ میں غلط ہوں، مجھے قانون آتا ہی نہیں ہے۔
جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ کیا آپ لوگ اسلام آباد ہائیکورٹ کو مذاق بنا رہے ہیں؟ میں نے آپ کو تسلی دی تھی کہ آپ نے پریشان نہیں ہونا، آپ کے خلاف کارروائی نہیں کروں گا، آپ نے پھر بھی انٹرا کورٹ اپیل دائر کردی یا پھر آپ کو اپیل دائر کرنےکے لیے مجبور کیا گیا۔
انہوں نےکہ یہاں چاہے سردار اعجاز بیٹھا ہو یا کوئی اور جج، یہ اسلام آبادہائیکورٹ کی کورٹ نمبر 5ہے، جب ڈویژن بینچ میں کیس آیا تو اس عدالت کی نمائندگی کہاں ہے؟ یکطرفہ آرڈر ہوا ہے، جب آرڈر ہو گیا تو اس عدالت کے سامنے لایا گیا کہ یہ کارروائی روک دی گئی ہے، سنگل بینچ کے عبوری آرڈرکے خلاف انٹراکورٹ اپیل قابلِ سماعت ہی نہیں ہے۔
فاضل جج نے کہا حیران ہوں کہ ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار 30 سال کی سروس کے بعد بھی اس بات سے لاعلم تھے، کیا ڈویژن بینچ کو بھی معلوم نہیں تھا کہ عبوری آرڈر کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل قابل سماعت نہیں؟ جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے کہا کہ میں توہین عدالت کی یہ کارروائی آگے بڑھاؤں گا اور فیصلہ لکھوں گا، فیصلہ لکھوں گا کہ کیا چیف جسٹس کے پاس ایک جج سے توہین عدالت کیس واپس لینےکا اختیار ہے؟ یہ اس ادارے کی بنیاد پر زوردار حملہ ہے۔
عدالتی معاون نے کہا ڈویژن بینچ کے آرڈر میں ابہام ہے، وضاحت تک ایڈیشنل اور ڈپٹی رجسٹرار کی حد تک کارروائی آگے نہ بڑھائی جائے، اس طرح تاثر جاتا ہے کہ جیسے ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے ججز میں تنازع ہے، میں کیوں دکھاوا کروں کہ تنازع نہیں ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرامریکہ نے قومی سلامتی کے تصور کا غلط استعمال کیا ہے، چینی وزارت خا رجہ پاکستان اروناچل پردیش کے معاملے پر چین کی حمایت کرتا ہے، دفتر خارجہ میرے لیے تیل کا صرف ایک قطرہ، ٹرمپ کا ابوظہبی میں اماراتی میزبانوں سے شکوہ قومی اسمبلی نے انکم ٹیکس ترمیمی بل 2024 سمیت متعدد اہم بلز منظور کرلیے پی ٹی آئی کا عمران خان کی رہائی اور حکومت مخالف بھر پور تحریک چلانے کا فیصلہ معرکہ حق، یوم تشکر؛ آرمی چیف کے ہمراہ وزیراعظم کی شہید اسکاڈرن لیڈر کے گھر آمد کوہستان میگا کرپشن اسکینڈل: محکمہ خزانہ کے 10 افسران معطلCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ہائیکورٹ کے ججز میں تنازع ہے اسلام ا باد ہائیکورٹ کے ڈپٹی رجسٹرار ڈویژن بینچ عدالت کی نہیں ہے
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔