موڈیز نے امریکی کریڈٹ ریٹنگ کیوں گھٹائی؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
بڑھتے ہوئے وفاقی قرضے اور بڑھتا ہوا مالی خسارہ دور کرنے میں ناکامی کے باعث موڈیز نے امریکا کی کریڈٹ ریٹنگ کو AAA سے گھٹا کر AA1 کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:موڈیز نے پاکستانی بینکوں کا اسٹیٹس مستحکم سے مثبت کردیا
2011 میں S&P اور 2023 میں Fitch کے اسی طرح کے اقدامات کے بعد موڈیز یہ فیصلہ 3 بڑی کریڈٹ ایجنسیوں کی طرف سے زوردار دھچکا ہے۔
موڈیز نے خبردار کیا ہے کہ امریکی قرضہ 2035 تک جی ڈی پی کے 134 فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جو 2024 میں 98 فیصد سے زیادہ ہے۔
ایجنسی نے 2017 کے ٹیکس کٹوتیوں کی ممکنہ توسیع پر بھی تنقید کی ہے، جس سے متعلق تخمینہ ہے کہ اگلی دہائی تک اس خسارے میں 4 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
موڈیز کی جانب سے یہ اعلان ہاؤس ریپبلکنز نے اخراجات میں کٹوتیوں کے اندرونی تنازعات پر ٹرمپ کے مجوزہ ٹیکس اصلاحات کے بل کو بلاک کرنے کے چند گھنٹے بعد کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا موڈیز موڈیز ریٹنگ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا موڈیز موڈیز ریٹنگ موڈیز نے
پڑھیں:
سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔ نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔