وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نئی تاریخ رقم کر دی، صرف 3 ماہ کے مختصر عرصے میں ایک لاکھ7 ہزار سے زائد افراد کو 61 ارب روپے کے قرضے دے دیے گئے، پنجاب میں پہلی مرتبہ 90 روز میں 57 ہزار 319 نئے کاروبار شروع ہونے کا ریکارڈ بھی بن گیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کی آسان کاروبار اسکیم کے تحت نئے کاروبار شروع کرنے کے لیے 23 ارب 91 کروڑ روپے کے قرض جاری کیے گئے، پہلی مرتبہ 6 ہزار 753 خواتین نے کاروبار چلانے کے لیے 3 ارب 42کروڑ روپے کے قرضے لیے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے آسان کاروبار فنانس اور کارڈ لون کے لیے زیر غور درخواستوں کا پراسیس جلد مکمل کرنے کا حکم دے دیا، وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر آسان کاروبار کارڈ اب واٹس ایپ کے ذریعے بھی ایکٹیو کیا جا سکے گا۔

وزیراعلی مریم نواز شریف نے ایکسپورٹ اور مینو فیکچرنگ سیکٹر لون کے لیے پلان طلب کرلیا۔

مریم نواز نے کہا کہ آسان کاروبار فنانس اور آسان کاروبار کارڈ پروگرام سے متعلق خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام کسی صورت نہیں رکنا چاہیے۔

خصوصی اجلاس میں آسان کاروبار فنانس اور آسان کاروبار کارڈ سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی، ایم ڈی پنجاب اسمال انڈسٹریز کارپوریشن (پی ایس آئی سی) سارہ عمر نے آسان کاروبار اسکیم پر پیش رفت سے آگاہ کیا

انہوں نے بتایا کہ چیف منسٹر آسان کاروبار فنانس اسکیم کے تحت 3 ہزار 10 افراد کو 18 ارب روپے کے لون جاری کیے جاچکے ہیں، چیف منسٹر آسان کاروبار کارڈ اسکیم کے تحت ایک لاکھ 4 ہزار افراد کو 43ارب روپے کے قرض کا اجرا کیا جاچکا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ چیف منسٹر آسان کاروبار فنانس کے لیے 74 ہزار 579 درخواستیں موصول ہوئیں، جن کے نتیجے میں 2 ہزار 505 درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے قرضے جاری کیے گئے۔

چیف منسٹر آسان کاروبار فنانس کے لیے 12 ہزار 29 درخواستیں موصول ہوئیں، اور 505 منظور کرکے قرضے فراہم کیے گئے، چیف منسٹر آسان کاروبار کارڈ اسکیم کے لیے 13 لاکھ 80 ہزار 838 درخواستیں ملیں، جب کہ ایک لاکھ 4 ہزار 133 کو منظور کیا گیا۔

ٹرانسپورٹیشن کے کاروبار کے لیے ایک ہزار 312 افراد نے 3 ارب 91 کروڑ روپے کے قرض حاصل کیے، ٹریڈنگ اینڈ ڈسٹری بیوشن کے لیے 175 افراد نے 3 ارب 94 کروڑ روپے کے قرض حاصل کیے، پروفیشن، سروسز، ایگری کلچر، ڈیری، فوڈ، بیوٹیشن، آٹو، فرٹیلائزر، پیسٹی سائیڈ اور دیگر کاروباروں کے لیے بھی قرض کے حصول کا رحجان دیکھا گیا۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ آسان کاروبا کارڈ کے ذریعے سروسز مہیا کرنے والے سب سے زیادہ 61 ہزار 996 افراد نے 26 ارب 13کروڑ روپے کے قرضے حاصل کیے۔

اسی طرح ٹریڈنگ کے لیے 24 ہزار 522 افراد نے 10 ارب 75 کروڑ روپے کے قرض حاصل کیے، ایگری اسمال بزنس کے لیے 10 ہزار 699 افراد 3 ارب 69 کروڑ روپے کے قرض لیے ہیں۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: چیف منسٹر آسان کاروبار آسان کاروبار فنانس آسان کاروبار کارڈ کروڑ روپے کے قرض روپے کے قرضے ارب روپے کے مریم نواز حاصل کیے افراد نے افراد کو اسکیم کے ایک لاکھ کے لیے

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ انتہائی آسان
  • فرانس میں جنگلاتی آگ نے 43 ہزار افراد کو انخلا پر مجبور کردیا
  • حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • حکومت کاچینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ