استبول(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 17 مئی ۔2025 )یوکرین اور روس کے درمیان پہلے باضابطہ مذاکراتی عمل کے آغاز پر دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ایک ایک ہزار جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے ترکی کے شہر استنبول میں روس اور یوکرین جنگ کے تین برس بعد پہلے باضابطہ بات چیت کے عمل کا آغاز ہوا ہے.

گزشتہ روز سفارت کاری میں ایک اہم پیشرفت کے نتیجے میں یوکرین اور روس کے وفود مارچ 2022 کے بعد پہلی بار بات چیت کے لیے آمنے سامنے آئے ان مذاکراتی عمل کے لیے ترکی اور امریکہ سمیت دیگر ممالک نے دنوں فریقین پر دباﺅڈالا اور بات چیت کے عمل کی حوصلہ افزائی کی جس کے بعد یہ معاملہ پہلے مرحلے میں یہاں تک پہنچا ہے.

دونوں حریف ممالک کے درمیان مذاکرات کے آغاز میں دونوں جانب سے کوئی مصافحہ نہیں کیا گیا اور یوکرینی وفد میں شامل آدھے سے زیادہ افراد نے فوجی وردیاں پہن رکھی تھی تاکہ یہ یاد دہانی کروائی جا سکے کہ ان کا ملک حملے کی زد میں ہے مذاکراتی ہال کو یوکرین، ترکی اور روسی جھنڈوں سے سجایا گیا تھا اس موقع پر ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے دونوں ممالک کے وفود کو بتایا کہ یہاں سے آگے دو راستے ہیں، ایک راستہ امن کی طرف جاتا ہے اور دوسرا مزید ہلاکتوں اور تباہی کی طرف جاتا ہے.

یہ بات چیت دو گھنٹے سے بھی کم جاری رہی اور جلد ہی شدید اختلافات سامنے آ گئے یوکرین کے ایک اہلکار کے مطابق کریملن نے نئے اور ناقابل قبول مطالبات کیے ہیں اس میں جنگ بندی کے بدلے میں کیﺅ کا اپنے ہی علاقے کے بڑے حصوں سے اپنی فوجوں کو ہٹانے پر اصرار کرنا بھی شامل ہے جب کہ جنگ بندی کے اہم معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

(جاری ہے)

تاہم دونوں فریقوں نے 1000 جنگی قیدیوں کو رہا کرنے پر اتفاق کر لیا ہے.

یوکرین کے نائب وزیر خارجہ سرہی کیسلیٹس کا کہنا تھا کہ یہ ایک بہت مشکل دن کا بہت اچھا خاتمہ تھا اور 1000 یوکرینی خاندانوں کے لیے ممکنہ طور پر بہترین خبر ہے اپنے ملک کے وفد کی قیادت کرنے والے یوکرین کے وزیر دفاع رستم عمروف نے کہا کہ یہ تبادلہ جلد ہو جائے گا ہمیں قیدیوں کے تبادلے کی تاریخ معلوم ہے تاہم ہم ابھی اس کا اعلان نہیں کر رہے ہیںانہوں نے کہا کہ اگلا قدم زیلنسکی اور پوتن کے درمیان ملاقات ہونا چاہیے.

درخواست کو روسی وفد کے سربراہ ولادیمیر میڈنسکی جو ایک صدارتی معاون بھی ہیں کے مطابق نوٹ کیا گیا انہوں نے کہا کہ روسی وفد مذاکرات سے مطمئن ہے اور رابطے جاری رکھنے کے لیے تیار ہے لیکن یوکرین اور اس کے کچھ اتحادیوں کو خدشہ ہے کہ روس سفارت کاری میں صرف وقت خریدنے، جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباﺅسے توجہ ہٹانے اور یورپی پابندیوں کے 18ویں دور کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے یورپی یونین کا کہنا ہے کہ وہ پہلے ہی اس متعلق کام کر رہے ہیں اور جب کہ دونوں فریق اب مذاکرات کی میز پر بیٹھ چکے ہیں تو صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ صرف ان کے اور صدر پوتن کے درمیان ہونے والی بات چیت ہی اہم ہو گی.

انہوں نے جمعرات کو بیان میں کہا تھا کہ جب تک پوتن اور میں اکٹھے نہیں ہو جاتے تب تک کچھ نہیں ہو گا یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ملاقات کب ہوگی کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ اعلیٰ سطحی مذاکرات ضروری ہیں لیکن سربراہی اجلاس کی تیاری میں وقت لگے گا.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے یوکرین اور کے درمیان اور روس بات چیت کے لیے نے کہا

پڑھیں:

سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا

کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔

آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔

ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔

دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی