سریندر ولاسائی کی بلاول ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ کو بھارت میں بلاک کرنے کی مذمت
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
اپنے بیان میں ترجمان بلاول ہاؤس نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، آزادی اظہار رائے کے علمبرداروں اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں جاری ڈیجیٹل سنسر شپ کے اس خطرناک رجحان کا نوٹس لیں۔ اسلام ٹائمز۔ بلاول ہاؤس کے ترجمان سریندر ولاسائی نے مودی سرکار کی جانب سے ان کا ذاتی ایکس اکاونٹ (سابقہ ٹوئٹر) کے ساتھ ساتھ میڈیا سیل بلاول ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ کو بھی بھارت میں بلاجواز بلاک کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے بے باک و دوٹوک موقف سے خوفزدہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اب ترجمان بلاول ہاؤس اور اور اس کے آفیشل میڈیا پلیٹ فارم کی آواز کو بھی سنسر کیا جا رہا ہے۔ میڈیا سیل بلاول ہاؤس سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق سریندر ولاسائی نے بھارتی حکومت کے اقدام پر اپنے ردعمل میں کہا کہ میری آواز کو دبانے کی یہ کوشش مودی سرکار کے خوف کو ظاہر کرتی ہے جو سچ کا سامنا نہیں کر سکتی، اس طرح کے بزدلانہ اقدامات بھارت کی غیر جمہوری اور عدم برداشت پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ سریندر ولاسائی نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ میں بھارت میں دلتوں سمیت دیگر اقلیتوں کے استحصال پر آواز اٹھاتا رہا ہوں اور مودی سرکار نے بھارت میں اقلیتوں کی آواز پر قدغنیں عائد کر رکھی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مودی نے اب پاکستانی اقلیتوں کی آواز کو بھی دبانا شروع کیا ہے، جس کا پہلا شکار شاید میں ہوں۔ سریندر ولاسائی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، آزادی اظہار رائے کے علمبرداروں اور دنیا بھر کی سول سوسائٹی پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت میں جاری ڈیجیٹل سنسر شپ کے اس خطرناک رجحان کا نوٹس لیں۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ مودی تم میرا ایکس اکاونٹ تو بلاک کرسکتے ہو لیکن بھارت میں جاری ظلم و بربریت کے خلاف دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کی آواز کا گلا گھونٹ نہیں سکتے۔ دریں اثنا، سریندر ولاسائی نے اپنے ایکس اکاونٹ پر پوسٹ میں لکھا "بھارتی حکومت نے میرے ایکس (X) اکاؤنٹ کو اپنی سرحدوں کے اندر اس "جرم" کی پاداش میں بلاک کر دیا ہے کہ میں نے پاکستان کے خلاف اس کی اشتعال انگیزی کے دوران بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا تھا۔ میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ شاید میں واحد اقلیتی آواز ہوں جو مودی سرکار کے لیے اس قدر پریشان کن ثابت ہوئی کہ اسے سنسر شپ کا سہارا لینا پڑ گیا۔"
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سریندر ولاسائی نے مودی سرکار بلاول ہاؤس بھارت میں کی آواز کہا کہ
پڑھیں:
ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
ہند رجب فاؤنڈیشن نے بھارتی پولیس، وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن سے ہماچل پردیش میں تعطیلات گزارنے والے اسرائیلی فوج کے ریزروسٹ اہلکار ایٹن گل بوا کی فوری گرفتاری کا
مطالبہ کیا ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق مذکورہ اسرائیلی اہلکار پر غزہ میں ’انتقامی کارروائیوں کے طور پر پورے رہائشی بلاکس کی منظم تباہی‘ کا الزام ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: فلسطینی بچی پر مبنی آسکر نامزد فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ پر پابندی عائد
فاؤنڈیشن کے مطابق گل بوا، جو اسرائیلی فوج کی 271ویں کامبیٹ انجینئرنگ بٹالین میں ریزروسٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے، نے شہری عمارتوں کی تباہی کو خود دستاویزی شکل دی۔
اس نے ایسی ویڈیوز بھی بنائیں جن میں وہ خان یونس اور رفح میں شہری گھروں کی مسماری کے احکامات دیتے، ان پر عمل درآمد کرتے اور اس عمل کا جشن مناتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔
The @hindrajabfoundation filed an urgent complaint in ???????? #India, demanding the immediate arrest of Eitan Gilboa, Israeli national and reservist in the 271st Combat Engineering Battalion. Gilboa is currently vacationing in Old Manali and Gondla Village, Himachal Pradesh.
Full… pic.twitter.com/6nSTt3uk25
— The Hind Rajab Foundation (@HindRFoundation) June 2, 2026
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ گل بوا کے خلاف متعدد ایسے واقعات کے شواہد موجود ہیں جن میں اس نے شہری بنیادی ڈھانچے کی تباہی میں حصہ لیا۔
’مارچ 30 موومنٹ‘ کے ذیلی ادارے ہند رجب فاؤنڈیشن نے کہا کہ گل بوا کے مبینہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں۔
فاؤنڈیشن کے مطابق بھارت، جو اس کنونشن کا فریق ہے، قانونی طور پر اس بات کا پابند ہے کہ سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے،
خواہ ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی جنرل کو اعزاز دیے جانے کے بعد معروف ہدایتکارہ کا ایوارڈ لینے سے انکار
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 51(سی) کے تحت بھی ریاست بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی پابند ہے، لہٰذا نئی دہلی پر اس معاملے میں کارروائی کی ذمہ داری
عائد ہوتی ہے۔
فاؤنڈیشن کے مطابق اس کے جنرل ڈائریکٹر دیاب ابو جحجہ نے کہا کہ گل بوا کوئی سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے اس وقت بھارت کی مہمان
نوازی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔
The Hind Rajab Foundation (HRF), a Belgium-based organisation pursuing legal action against Israeli military personnel across multiple countries, has filed a complaint with Indian authorities seeking the arrest of an Israeli reservist currently travelling in Himachal Pradesh over…
— The Siasat Daily (@TheSiasatDaily) June 2, 2026
’اس نے خود عوامی طور پر ایسی ویڈیوز اور مواد شائع کیا ہے جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو راکھ اور ملبے میں تبدیل کرتا دکھائی دیتا ہے، اور ان کارروائیوں کو انتقامی جذبے کے تحت
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے نام منسوب کرتا ہے۔‘
مزید پڑھیں: بیلجیئم نے اسرائیلی فوجیوں کے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ آئی سی سی کو بھجوا دیا
دیاب ابو جحجہ نے بھارتی حکام سے فوری کارروائی اور گرفتاری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو اپنی سرزمین ان افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینی چاہیے جو شہری جانوں کی
تباہی پر فخر کرتے ہیں۔
فاؤنڈیشن نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں جوابدہی کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی اور اس کا مؤقف ہے کہ مشتبہ شخص اس وقت بھارت میں موجود ہے، اس لیے کارروائی
کی ذمہ داری بھی بھارت پر عائد ہوتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی فوج اہلکار بھارت بیورو آف امیگریشن پولیس غزہ فاؤنڈیشن نئی دہلی ہماچل پردیش ہند رجب وزارت داخلہ