اورنگی ٹاؤن میں بیوٹی پارلر سے خاتون کی گلا کٹی جھلسی ہوئی لاش برآمد
اشاعت کی تاریخ: 17th, May 2025 GMT
کراچی:
اورنگی ٹاؤن کی مجاہد کالونی میں گھر میں بنے بیوٹی پارلر سے خاتون کی گلا کٹی جھلسی ہوئی لاش برآمد ہوئی۔
ایس ایچ او مومن آباد معراج انور نے بتایا کہ مقتولہ کی شناخت 30 سالہ صائمہ شاہ کے نام سے کی گئی ہے جس کی گلا کٹی جھلسی ہوئی لاش اسی کے بیوٹی پارلر سے ملی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ واقعے کے بعد فوری طور پر کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے ہیں جبکہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مقتولہ نے ایک ہفتے قبل ہی شاہ میر نامی شہری سے دوسری شادی کی تھی۔
ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ مقتولہ کی پہلے شوہر سے 12 سال کی بیٹی ہے اور جس گھر میں بنے بیوٹی پارلر سے مقتولہ کی لاش ملی ہے وہ انہوں نے کرایے پر لیا ہوا تھا، آدھے پورشن پر انہوں نے رہائش اختیار کی ہوئی تھی۔
پولیس افسر نے بتایا کہ واقعے کے بعد سے مقتولہ کا شوہر غائب ہے جس کے سامنے آنے کے بعد ہی صورت حال مزید واضحے ہو سکے گی تاہم پولیس اس کے بھائی سے معلومات حاصل کر رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بیوٹی پارلر سے
پڑھیں:
مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
بی جے پی کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔
بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔
بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔
نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔
ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔
رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔
سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔