استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش سے بھارت کا مسئلہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کا بیانیہ زمین بوس ہو گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ صدر آزاد جموں و کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کو عالمی مسئلہ قرار دینے اور تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش سے بھارت کا مسئلہ کشمیر کو اندرونی معاملہ قرار دینے کا بیانیہ زمین بوس ہو گیا ہے جس پر انڈین میڈیا اور مودی سرکار تلملا اُٹھے ہیں، افواج پاکستان نے بھارت کی جنگی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے جس پر پوری قوم کو اپنی بہادر افواج پر فخر ہے اور ہم پاک افواج کو اس کامیابی پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے یہاں سہنسہ میں وزیر مال چوہدری محمد اخلاق کی طرف سے اُن کی رہائش گاہ پر اپنے اعزاز میں دیے گئے استقبالیہ سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صدر آزاد کشمیر بیرسٹر سلطان محمود چوہدری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق کشمیری عوام ہیں اور مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی مرضی و منشا کے مطابق حل کرانے کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کی کنجی مسئلہ کشمیر کے حل میں مضمر ہے لہذا عالمی برادری بالخصوص امریکہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرانے کے لئے آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا تاکہ خطے میں امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے پہلگام میں فالس فلیگ آپریشن کو بنیاد بنا کر پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کی اور مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی کشمیری عوام پر عرصہ حیات مزید تنگ کر دیا ہے، مودی سرکار ہندوتوا کی پالیسیوں پر گامزن ہو کر اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھ رہی ہے لیکن افواج پاکستان نے مودی سرکار کی انتہا پسندانہ پالیسیوں، جنگی جنون اور اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب کو غلط ثابت کرتے ہوئے بھارت کے ایسے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے، مودی سرکار کی اس ناکامی پر اب بھارت کی عوام مودی سرکار سے سوال اور مودی سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام مودی سرکار کشمیر کے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع