عالمی سطح پر مودی حکومت کی سفارتی ناکامی بے نقاب
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
بی بی سی اور دیگر بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، حالیہ عالمی کشیدگی کے دوران بھارتی سفارت کاری مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جبکہ پاکستان کی پرامن اور فعال سفارتی حکمت عملی نے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل کی۔
بی بی سی کے مطابق، مودی حکومت کی ملٹی الائنس پالیسی غیر مؤثر ہو کر رہ گئی ہے اور کسی بڑے عالمی ملک نے بھارت کی کھل کر حمایت نہیں کی، جبکہ چین، ترکی، ایران، سعودی عرب جیسے اہم ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے نظر آئے۔
چین نے پاکستان کی خودمختاری کی مکمل حمایت کا اعلان کیا اور ترکی نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر سراہا۔ ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ نے بیک وقت پاکستان کا دورہ کر کے واضح پیغام دیا کہ پاکستان کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
امریکی کردار نے بھارت کو شدید دھچکا پہنچایا۔ واشنگٹن سے جاری ہونے والے جنگ بندی کے اعلان سے بھارت لاعلم رہا، اور امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں دہشتگردی کا ذکر تک نہیں کیا، جو مودی حکومت کے بیانیے کے لیے ایک سفارتی جھٹکا تھا۔
رپورٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی میڈیا میں پاکستان کا بیانیہ غالب رہا اور بھارتی میڈیا و حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے دعوے، جیسے سرجیکل اسٹرائیک، دنیا نے مسترد کر دیے۔ اس کے برعکس، پاکستان نے شواہد کے ساتھ دنیا کو قائل کیا اور امریکہ کی ثالثی کو بھی مثبت انداز میں قبول کیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارت نہ صرف جنگی میدان میں بلکہ سفارتی محاذ پر بھی تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری نے کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دی اور بھارت کی "اندرونی معاملہ" کہنے کی حکمت عملی کو نظرانداز کر دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا