کشمیر کے لوگ پیار، محبت اور امن والے ہیں؛ شاہد آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
سٹی 42 : سابق کرکٹر شاہد آفریدی نے لائن آف کنٹرول لیپا ویلی کا دورہ کیا، انہوں نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی اور وہاں کے لوگوں سے ملاقاتیں کیں ۔
شاہد آفریدی نے اس موقع پر گفتگو میں کہا کہ کشمیر کے لوگ پیار، محبت اور امن والے ہیں، بھارتی جارحیت میں پاک فوج کے ساتھ کھڑے رہے، پاکستانی قوم کی طرف سے کشمیری عوام کا شکریہ ادا کرنے لیپہ سیکٹر آیا ہوں۔
سابق کپتان نے کہا کہ بھارتی جارحیت کے دوران میڈیا کا مثبت کردار قابل تعریف ہے، افواج پاکستان ہمیشہ امن کی خواہاں رہیں، دفاع وطن میں اقدام اٹھانا مجبوری ہوتا ہے۔
لاہور میں 221 ٹریفک حادثات؛ 2 افراد جاں بحق286 زخمی
انہوں نے کہا کہ کشمیر کا ٹیلنٹ قابل فخر ہے، بدقسمتی سے ضائع ہو رہا ہے ، توجہ دینا ناگزیر ہے، آزاد کشمیر کی حکومت یہاں کرکٹ اکیڈمی قائم کرے تاکہ ٹیلنٹ محفوظ رہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ جہاں انسانیت کے ساتھ ظلم ہو، وہ دہشت گردی ہے انسانیت سب سے بڑا مذہب ہے، مقبوضہ کشمیر کے عوام آج بھی حق خود ارادیت کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وقت دور نہیں جب کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع ہوگا، کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے، عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ظلم بند کروانے کے لیے کردار ادا کرے ۔
ملتان سلطانز کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کیخلاف بیٹنگ جاری
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ