Daily Ausaf:
2026-06-03@02:06:32 GMT

کشمیر:لہوسے لکھی ہوئی گواہی

اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
جب بھارتی فضائیہ نے پاکستانی حدودکی خلاف ورزی کی،توپاک فضائیہ نے صرف اپنے دفاع کاحق استعمال نہ کیا،بلکہ دنیاکویہ جتا دیاکہ ہم صرف ایٹمی طاقت نہیں،بلکہ جنگی حکمت عملی میں بھی برترہیں۔بھارت کے جدیدترین لڑاکا طیارے، راڈار سے چھپنے والے اسرائیلی ڈرونز کے دعوے، سب خاک ہوگئے۔کئی مقامات پربھارت کے اہم عسکری اہداف کونشانہ بنایاگیا اور ان سب کے عالمی میڈیا میں باقاعدہ شواہدبھی پیش کردیئے۔
جب جنگی میدان میں بھارت کوشرمناک شکست کا سامناہوا،تواس کی کمرنازک حلیف اسرائیل کے خفیہ عسکری ماہرین نے تھپتھپائی۔ اسرائیل نے امریکی انتظامیہ کومتحرک کیا، جس نے فوراً سیزفائرکیلئے دباؤبڑھایا۔اقوامِ متحدہ میں سفارتی شوراٹھا،اورامریکی وزیر خارجہ نے براہ راست اسلام آباداوردہلی سے رابطہ کیا۔پاکستان نے سیزفائرکی رضامندی صرف امن کی خاطر دی، نہ کہ کمزوری کے تحت۔یادرہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ابتدامیں اس معاملے سے لاتعلقی ظاہر کی۔ وہ کہتے رہے:’’یہ انڈیااورپاکستان کااندرونی معاملہ ہے‘‘۔مگرجونہی بھارت کومنہ کی کھانی پڑی، امریکی سفارتکاری متحرک ہوئی اورسیز فائر کا انتظام کروایاگیاتاکہ مودی سرکارکومزید شرمندگی سے بچایاجاسکے۔
اندرونِ ہند،مودی پرعوامی دباؤبڑھ چکا ہے۔ انتخابات سرپرہیں،اورہربھارتی چینل پر صرف یہی بازگشت ہے:’’پاکستان نے ہماری طاقت کابھرم توڑدیا‘‘۔اس پس منظرمیں یہ بعید نہیں کہ مودی سرکارایک بارپھراچانک حملے کی ناپاک جسارت کرے۔اس کیلئے اسرائیل سے ڈرون اورمیزائل سسٹم کی فوری درآمد، امریکا سے خفیہ سیٹلائٹ ڈیٹاکی مدد،اور متحدہ عرب امارات وسعودی عرب سے مالی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔آخری خبریں یہ ہیں کہ ایک طرف سیزفائرکاڈرامہ اوردوسری طرف انڈیا کو بچانے کیلئے امریکی ائیرفورس کے تین بڑے جہازانڈیاکے جے پورکے ہوائی اڈے پرپہنچ چکے ہیں۔
میرے ایک بہت ہی عزیزدانشوردوست کو جب یہ اطلاع ملی توان کافوری کہناتھاکہ جیسے ایران پربمباری کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اسٹیلتھ بمبارطیارے ڈیاگوگارسیا پررکھے ہوئے ہیں، اسی طرح ایک انتباہ کے طورپرپاکستان کو بھارتی فضائی اڈوں پر بمباری کرنے سے روکنے کیلئے بھارتی اڈے پرطیارے کھڑے کردیئے گئے ہیں،تاکہ امریکی طیاروں کی تباہی کوامریکاکے خلاف جنگی کارروائی تصورکیاجائے۔
یقیناپاکستان اب اپنے دیگر آپشنز پر غور کرے گاجوکہ انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اوراسرائیل کو واضح پیغام ملاہے کہ پاکستان اب اپنے وہ کارڈ استعمال کرے گا،جس کاانہیں وہم وگمان بھی نہیں۔ سعودی عرب اوریواے ای جیسے ممالک پاکستان سے مضبوط اسٹریٹجک اوراقتصادی روابط رکھتے ہیں، بالخصوص سی پیک میں ان کی دلچسپی ایک سنجیدہ پہلوہے ۔مودی کی کوئی جارحانہ حرکت ان ممالک کوایک دوراہے پرکھڑاکردے گی،یاتووہ سفارتی غیرجانبداری اپنائیں،یاپھرپاکستان سے خاموش تائید جاری رکھیں،جیساکہ ماضی میں ہوا۔ امریکاکارویہ منافقت پرمبنی رہاہے۔وہ ایک جانب بھارت کو’’چین کے مقابلے میں اہم پارٹنر‘‘ کہتا ہے، اوردوسری طرف پاکستان کی افواج کو بھی قریبی تعاون کایقین دلارہاہے۔اگرجنگ دوبارہ چھڑتی ہے توامریکا کوشش کرے گاکہ پاکستانی جواب سے پہلے ہی بزورطاقت ایک بارپھر سیزفائرکی میزسجادی جائے، تاکہ مودی کی اپنی عوام میں جورسوائی ہوچکی ہے،اس کامداواہوسکے لیکن اس بارشایددیرہوچکی ہوگی۔
آج پھرخطے کی فضابارودآلودہے۔مودی کی زبان سے نکلاہرلفظ ایک نئے طوفان کاپیش خیمہ ہے۔پاکستان کے صبروتحمل کوکمزوری نہ سمجھا جائے،کہ ہم امن چاہتے ہیں مگرعزت کے ساتھ۔کشمیرکالہوپکاررہاہے،اوراب وقت آچکا ہے کہ اقوام عالم اس دکھی قوم کی فریاد سنیں۔ یاد رکھیں کہ یہ دنیاکاواحدخطہ ہے جہاں ایک چنگاری، عالمی تباہی میں بدل سکتی ہے۔اگرعالمی طاقتیں اب بھی تاخیرسے کام لیں،تو کشمیرصرف ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں،بلکہ ایٹمی قیامت کا محرک بن سکتاہے۔کشمیرجیسے سلگتے تنازعے کو حل نہ کرنا،انسانی دانش وضمیرپربدنماداغ ہے۔ کیاعالمی طاقتیں امن نہیں چاہتیں؟یاجنگ ہی ان کا ذریعہ معاش ہے؟
یادرکھیں:کشمیرکی وادی اگرخاموش ہے، تویہ خامشی کسی بھی لمحے ایک ناقابلِ تلافی دھماکے میں بدل سکتی ہے۔وہ دن دورنہیں جب یہ سوال گونجے گاتم نے کشمیریوں کوحق کیوں نہ دیا؟ تم نے اپنے وعدے کیوں توڑے؟اے اقوامِ عالم !اگرتمہاراضمیرجاگتاہے توکشمیریوں کی صدائے حق سنو،وگرنہ تاریخ کے قاضی کے سامنے تمہیں جواب دہ ہوناپڑے گا۔
اے اقوامِ عالم!تم کب جاگو گے؟ جب دھرتی راکھ ہو جائے گی؟ کشمیر کے مظلوم، تاریخ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ کیا تمہارے ایوانِ عدل میں ان کے آنسوؤں کی کوئی گونج سنائی دے گی؟
وادی کشمیر!ہم تجھے تنہانہیں چھوڑیں گے۔ یہ چراغِ سحرجوتیرے لہوسے روشن ہے، ایک دن ظلمتوں کوچیرکرصبحِ آزادی کاپیامبر بنے گا۔ ان شااللہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

پڑھیں:

ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔

روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔

تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔

ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔

ایران جنگ پر سوالات

کانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔

جنگ کے معاشی اثرات

ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا

ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقف

مارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ

روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ

مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ

متعلقہ مضامین

  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت