معرکہ حق:بھارتی مسلمان نے پاکستان مخالف نعرہ لگانے سے انکار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
نئی دہلی(ویب ڈیسک )بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان کے منہ توڑ جواب نے بھارتی میڈیا کو بدحواس کردیا۔
میڈیا بھارتی مسلمانوں سے پاکستان مخالف نعرے لگوانے کیلئے بضد ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کی کوشش کے باوجود بھارتی بزرگ مسلمان نے پاکستان مخالف نعرہ لگانے سے انکار کردیا۔
بزرگ نے بھارت کے حق میں نعرہ لگانے سے بھی انکار کر دیا ۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی مسلمانوں سے پاکستان مخالف نعرہ لگوانے کے پیچھے مودی کی ہزیمت کو چھپانا ہے۔ بھارتی میڈیا اور انتہاء پسند ہندوؤں کا مسلمانوں سے یہ رویہ دو قومی نظریے کو سچا ثابت کر رہا ہے ۔
مزیدپڑھیں:امریکی خاتون اول ملانیا ٹرمپ کا مجسمہ چرا لیا گیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: پاکستان مخالف
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔