کراچی(نیوز ڈیسک)کے الیکٹرک نے 13 ہزار سے زائد کنڈے ہٹانے کی مہمات میں 17,298 ہزار کلوگرام غیر قانونی کنکشنز کو منقطع کو ہٹایا گیا-

کے الیکٹرک کی قانون نافذ کرنے والے اداروں، پولیس اور سیکیورٹی کے تعاون سے شہر بھر میں بجلی چوری اور نادہندگان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ کے ای نے اتحاد ٹاؤن، بلدیہ میں نصب اپنی 250 kva PMT کو واجبات کی۔عدم ادائیگیوں کے باعث ہٹا دیا تھا مگر بعد میں، شرپسندوں نے اپنے طور پر غیر قانونی طور پر 500 kva PMT کا ٹرانسفارمر نہ صرف نصب کیا بلکہ کے-الیکٹرک کے نیٹ ورک سے دوبارہ منسلک بھی کر دیا اور بجلی چوری مسلسل جاری رکھی۔ اس غیر قانونی پی ایم ٹی کو دوبارہ منقطع کرنے کے ساتھ ہٹادیا گیا، جس پر کل بقایا PKR 67 ملین تھے۔ رہائشی علاقے کو غیر قانونی طور پر بجلی سپلائی کرنے کے لیے اس پی ایم ٹی کے ذریعے ہائی ٹینشن لائن سے بجلی چوری کی جا رہی تھی۔ یاد رہے متعدد یاد دہانیوں کے باوجود بھی کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔

ترجمان کے مطابق، اس سے قبل بھی کے-الیکٹرک نے اسی مقام سے اپنا ٹرانسفارمر 6 کروڑ روپے سے زائد کے واجبات کی بنیاد پر منقطع کیا تھا، تاہم نادہندگان نے جنہوں نے 2023 سے اب تک ادائیگیاں نہیں کیں، غیرقانونی طور پر دوبارہ نیٹ ورک سے منسلک ہوکر بجلی چوری کا سلسلہ جاری رکھا۔ متعدد بار ادائیگیوں کی یاد دہانیاں کروانے کے باوجود بل ادا نہیں کیے گئے۔

ترجمان کے-الیکٹرک کا کہنا ہے کہ ملیر، لانڈھی، کورنگی، سرجانی ٹاؤن، گلستان جوہر سمیت شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی چوروں اور کنڈا مافیا کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ غیر قانونی کنکشنز نہ صرف نیٹ ورک کے حفاظتی اصولوں کو نظرانداز کرتے ہیں بلکہ کے-الیکٹرک کے انفرااسٹرکچر کو نقصان اور شہریوں کے لیے جان لیوا خطرات کا سبب بنتے ہیں۔

دوسری جانب، کے-الیکٹرک نے ماربل انڈسٹری ایریا میں نئے فیڈر کے افتتاح کے ذریعے علاقے میں قابل بھروسہ اور تسلسل کے ساتھ بجلی کی فراہمی کی جانب ایک اور اہم قدم اٹھایا ہے۔ اس نئے فیڈر سے نہ صرف موجودہ صنعتوں بلکہ نئے آنے والے کاروباری حضرات کو بھی بجلی کی بہتر سہولت حاصل ہوگی۔ ممکنہ فالٹس میں کمی آئے گی اور بجلی کی مسلسل فراہمی سے کاروباری سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہوگا۔ فیڈر کے افتتاح کے موقع پر کے-الیکٹرک کے ہیڈ آف ڈسٹری بیوشن ہمایوں صغیر سمیت اعلیٰ انتظامیہ کے افسران موجود تھے، جنہیں مقامی افراد کی جانب سے سراہا گیا۔

ادارے کی جانب سے صارفین، کمیونٹی رہنماؤں اور مقامی نمائندوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بجلی چوری کی حوصلہ شکنی کریں اور بلوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنائیں تاکہ شہر میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ کے-الیکٹرک نے زور دیا ہے کہ بجلی کے انفراسٹرکچر میں غیر قانونی مداخلت بڑے حادثات کا پیش خیمہ بن سکتی ہے، لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ ان غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کو اولین ترجیح دے۔
مزیدپڑھیں:خیبر پختونخوا حکومت کا سندھ میں مقیم اپنے باشندوں کیلئےاہم فیصلہ

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کے الیکٹرک نے بجلی چوری بجلی کی

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • صرف 10 لاکھ روپے میں منی الیکٹرک کار، کیا یہ واقعی ممکن ہے؟
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار