ڈی آئی جی ٹریفک نے کراچی میں روڈ حادثات کی اہم وجوہات بتا دیں
اشاعت کی تاریخ: 18th, May 2025 GMT
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کی اہم وجہ اوور اسپیڈنگ ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بائیک سوار و گاڑی چلانے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمیں کس لائن پر چلنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں ٹریفک پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی پیر محمد شاہ نے کہا ہے کہ شہر میں 55 فیصد موٹرسائیکل ٹریفک حادثات کا شکار ہوتے ہیں، جبکہ دیگر حادثات حد رفتار سے تجاوز، لین کی خلاف ورزی کی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام ”ٹریفک، حادثات، اسباب اور سدِباب“ کے موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں ٹریفک حادثات کی اہم وجہ اوور اسپیڈنگ ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بائیک سوار و گاڑی چلانے والے کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمیں کس لائن پر چلنا ہے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ تیسری اہم مال بردار گاڑیوں کی اوور لوڈنگ ہے، 55 فیصد بائیک والے حادثات کا شکار ہو رہے ہیں، دنیا بھر میں گاڑی کی ایک عمر ہوتی ہے، مگر کراچی میں معاملہ اس کے برعکس اور بیشتر گاڑیاں پرانی ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ کراچی کے ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیوں پر پیسہ خرچ نہیں کرتے، سختی کرنے پر پورٹس بند کر دیتے ہیں۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ ٹریفک حادثات کی روک تھام کیلئے سگنل، روڈ ٹھیک کرنے اور یوٹرن لگانا ہوگا، کم از کم ٹریفک کیلئے اتنا بجٹ ہو کہ جو چیزیں لگی ہوئی ہوں، اس کی دیکھ بھال کر سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پیر محمد شاہ نے ٹریفک حادثات کراچی میں حادثات کی جی ٹریفک کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔