بھارت کا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ خلا میں بھیجنے کا مشن ناکام ہوگیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
بھارت(نیوز ڈیسک)بھارتی حکام کے مطابق ریاست آندھرا پردیش کے خلائی مرکز سے اتوار کی صبح PSLV-C61 راکٹ کے ذریعے آبزرویشن سیٹلائٹ کو خلا میں بھیجا گیا۔
تاہم لانچ وہیکل پرواز کے تیسرے مرحلے میں تکنیکی خرابی کے باعث مشن مکمل نہیں ہوسکا۔
بھارت کی خلائی ایجنسی ISRO نے تصدیق کی کہ وہ اپنے EOS-09 آبزرویشن سیٹلائٹ کو مطلوبہ مدار میں پہنچانے میں ناکام رہی ۔ اس ناکامی کی وجہPSLV-C61 لانچ وہیکل میں پیش آنے والا ایک تکنیکی مسئلہ ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اس ناکامی کی تفصیلی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دی جائے گی تاکہ مسئلے کی اصل وجہ معلوم کی جا سکے اور آئندہ ایسے نقصان سے بچا جا سکے۔
واضح رہے کہ بھارت 1960 کی دہائی سے خلائی تحقیق میں سرگرم ہے، 2014 میں بھارت نے ایک سیٹلائٹ کو مریخ کے گرد مدار میں بھیجا تھا۔
بھارت 2023 میں چاند کے جنوبی قطب کے قریب بھی خلائی جہاز بھیج چکا ہے۔
عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے ملاقات کیلئے آمادہ، بڑی خبر سامنے آگئی
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔