آئی ایم ایف نے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, May 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 19 مئی ۔2025 )بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے مالی سال 25-2024 کے لیے پاکستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو کو کم کر کے 2.6 فیصد کر دیا ہے جو اکتوبر میں دی گئی 3.2 فیصد کی پیش گوئی سے کم ہے یہ کمی مالی سال کی پہلی ششماہی میں معاشی سرگرمیوں کی کمزوری اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باعث کی گئی ہے.
(جاری ہے)
7 فیصد رہی جو اہم خریف فصلوں کی کم پیداوار اور صنعتی شعبے کی مسلسل سستی روی کو ظاہر کرتی ہے.
بزنس ریکارڈر کے مطابق رواں مالی سال میں موجودہ اخراجات جی ڈی پی کے 18.9 فیصد کے برابر رہے جو کہ آئی ایم ایف پروگرام کے مطابق تھے اگرچہ شرح نمو کی پیش گوئی کم کی گئی ہے لیکن موجودہ اخراجات کی نئی پیش گوئی بھی اتنی ہی رکھی گئی ہے تاہم آئندہ مالی سال میں یہ اخراجات جی ڈی پی کے 17.8 فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے جس کا انحصار 3.6 فیصد شرح نمو کے حصول پر ہوگا. پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کو اس سال فنڈ پروگرام کے تحت جی ڈی پی کے 2.3 فیصد کے برابر رکھا گیا تھا لیکن نئی پیش گوئی میں اسے 2.5 فیصد تک بڑھا دیا گیا ہے تاہم پلاننگ کمیشن کی جانب سے فنڈز کے اجرا کی رفتار اس اضافے کو عملی شکل دینے کی تائید نہیں کرتی دفاعی اخراجات اس سال بجٹ اور اجرا دونوں کی صورت میں جی ڈی پی کے 1.7 فیصد کے برابر رہے جبکہ اگلے مالی سال کے لیے ان کی پیش گوئی جی ڈی پی کے 1.9 فیصد کے طور پر کی گئی ہے. نجکاری کی مد میں محصولات رواں سال اور آئندہ چار سالوں کے لیے صفر فیصد جی ڈی پی پر رکھے گئے ہیں اہم فصلوں کی پیداوار مالی سال کی پہلی ششماہی میں مایوس کن رہی جبکہ صنعتی سرگرمیاں بھی سست رہیں تاہم حالیہ بلند اشاریوں کی بنیاد پر مالی سال 2025 کی دوسری ششماہی اور اس کے بعد کے عرصے میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے. آئی ایم ایف کے مطابق مارچ میں مہنگائی سالانہ بنیاد پر کم ہو کر 0.7 فیصد رہ گئی جس کی بڑی وجہ سخت مالی و معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں کمی رہی تاہم بنیادی مہنگائی اب بھی تقریباً 9 فیصد کی بلند سطح پر ہے رواں مالی سال 2025 کے لیے مہنگائی کی پیش گوئی کو کم کیا گیا ہے اگرچہ آئندہ مہینوں میں اس میں نمایاں اضافہ متوقع ہے جس کی وجہ پچھلے سال کے کم اعداد و شمار کا اثر ہے اگر مالیاتی پالیسی سخت رہی تو مالی سال 2026 کے دوران مہنگائی کو ہدفی دائرہ (5 سے 7 فیصد) میں واپس لانے کی امید ہے. مالی سال 2025 کے لیے کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ تقریباً 0.2 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے جس کی وجہ برآمدات میں استحکام اور ترسیلات زر میں بہتری ہے مستحکم میکرو اکنامک اور زرمبادلہ کی صورتحال نے ترسیلات زر کو رسمی ذرائع سے بڑھاوا دیا ہے. رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ درمیانی مدت میںکرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ معمولی طور پر بڑھ کر جی ڈی پی کے تقریباً 1 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے کیونکہ درآمدات میں اضافہ متوقع ہے مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کی امید ہے جسے کثیر فریقی اور دو طرفہ قرض دہندگان کی جانب سے فراہم کردہ مالی امداد اور آر ایس ایف کے تحت ممکنہ 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگیوں سے تقویت ملے گی. پروگرام کے دوران بیرونی کمرشل فنانسنگ تک رسائی محدود رہنے کی توقع ہے تاہم مالی سال 2026 میں چھوٹے پیمانے پر ”پانڈا بانڈ“ کے اجرا کی توقع ہے جبکہ مالی سال 2027 میں یوروبانڈ/گلوبل سکوک مارکیٹ میں تدریجی واپسی کی امید ہے بشرطیکہ پالیسی میں اعتماد بحال ہوآئی ایم ایف نے مالی سال 25-2024 کے لیے برآمدات کی پیش گوئی کم کر کے 31.305 ارب ڈالر کر دی ہے جو پہلے 31.751 ارب ڈالر تھی جبکہ درآمدات کی نئی پیش گوئی 57.634 ارب ڈالر ہے، جو پہلے 57.180 ارب ڈالر تھی.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جی ڈی پی کے 1 آئی ایم ایف کی پیش گوئی مالی سال کی توقع فیصد کے گیا ہے کے لیے گئی ہے
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔