برطانوی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار سے رابطہ، سیلابی ریلوں سے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
برطانیہ کے سیکریٹری آف اسٹیٹ برائے خارجہ، دولت مشترکہ و ترقیاتی امور ڈیوڈ لیمی ایم پی نے پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے رابطہ کیا اور حالیہ شدید بارشوں اور تباہ کن سیلابی ریلوں کے باعث قیمتی جانوں اور مالی نقصان پر دلی افسوس کا اظہار کیا۔برطانوی وزیر خارجہ لیمی نے مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ یکجہتی، اور لندن میں ملاقاتوں کے دوران مثبت پیشرفت کی توقع کا اظہاربھی کیانائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے برطانوی حکومت کی جانب سے ہمدردی اور تعاون کے جذبے پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان برطانیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا خواہاں ہے۔انہوں نے برطانیہ کی جانب سے امدادی و بحالی کے اقدامات میں تعاون کے اظہار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مسلسل رابطے کی امید ظاہر کی۔
واضح رہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ان دنوں برطانیہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ برطانوی ہم منصب اینجلا رائنر، پارلیمانی انڈر سیکرٹری برائے پاکستان ہیمش فائرنگ سمیت دولت مشترکہ جنرل سیکرٹری شرلے سے ملاقات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔