نیوزی لینڈ میں یوم آزادی کی تقریب، کیوی وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 17th, August 2025 GMT
AUCKLAND, NEW ZEALAND:
نیوزی لینڈ میں یوم آزادی پاکستان کی مناسبت سے تقریب کا انعقاد کیاگیا، جس میں نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے خصوصی شرکت کی اور پاکستان کو 79 ویں یوم آزادی پر مبارک باد پیش کی اور دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط اور دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا اور پاکستانی برادری کی نیوزی لینڈ کی ترقی میں خدمات کو سراہا۔
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں پاکستان کے یوِ آزادی کی شان دار تقریب میں وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے شرکت کی، اس موقع پر وزیر برائے ایتھنک کمیونٹیز مارک مچل، قائدِ حزب اختلاف اور سابق وزیرِاعظم کرس ہپکنز، نیوزی لینڈ میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل عزیز احمد اور دیگر متعدداراکینِ پارلیمان بھی موجود تھے۔
تقریب میں شریک تقریباً ایک ہزار کیوی پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے پاکستان کو 78ویں جشن آزادی پر مبارک باد پیش کی اور خطاب میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان طویل عرصے سے قائم مضبوط اور دوستانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم نے کیوی پاکستانی برادری کی نیوزی لینڈ کی ترقی میں خدمات کو سراہا۔
قائدِ حزبِ اختلاف اور سابق وزیرِاعظم کرس ہپکنز نے بھی اپنے خطاب میں کیوی پاکستانی کمیونٹی کے کردار اور پاکستان اور نیوزی لینڈ کے تعلقات کی مضبوطی کو سراہا۔
اس سے قبل نیوزی لینڈ کی قیادت کی موجودگی میں پاکستان کے ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل عزیز احمد نے پرچم کشائی کی اور وزیراعظم سمیت دیگر معزز مہمانوں کو اجرک کے روایتی تحائف پیش کیے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ کے صدر ڈاکٹر آصف خان نے اپنے خطاب میں تنظیم کی اہم سرگرمیوں اور آئندہ منصوبوں کا ذکر کیا اور دونوں حکومتوں سے باہمی مفاد کے لیے اسٹریٹجک شراکت داری قائم کرنے پر زور دیا۔
تقریب میں پرچم کشائی کے ساتھ ساتھ مشاعرے، ثقافتی پروگرام، ویڈیو نمائشیں اور ملی اور حب الوطنی کے نغمے بھی شامل تھے۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ کی نئی انٹرایکٹو ویب سائٹ کا بھی اجرا کیا گیا، اس موقع پر نیوزی لینڈ کے وزیرِاعظم کی پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریب میں شرکت کو پاکستان کے خصوصی خیرسگالی کے پیغام کے طور پر دیکھا گیا۔
آکلینڈ میں منعقدہ یہ تقریب پاکستان ایسوسی ایشن آف نیوزی لینڈ نے پاکستان ہائی کمیشن، نیوزی لینڈ کی وزارت برائے ایتھنک کمیونٹیز اور آکلینڈ میں مقیم متعدد پاکستانی کاروباری اداروں کے تعاون سے منعقد کی اور یہ تقریب ان متعدد اعلیٰ سطح کے پروگرامز کا حصہ تھی جو پاکستان کے یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں نیوزی لینڈ کے مختلف شہروں میں منعقد کیے جا رہے ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان نیوزی لینڈ کے وزیر نیوزی لینڈ کی میں پاکستان پاکستان کے آزادی کی لینڈ میں کی اور
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔