WE News:
2026-07-24@05:06:47 GMT

لیڈی ڈیانا لُک اپنانے پر عائزہ خان تنقید کی زد میں کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 16th, August 2025 GMT

لیڈی ڈیانا لُک اپنانے پر عائزہ خان تنقید کی زد میں کیوں؟

معروف اداکارہ عائزہ خان، جن کے سوشل میڈیا پر 14.6 ملین فالوورز ہیں، حال ہی میں لیڈی ڈیانا کے مشہور انداز کو اپنانے پر تنقید کی زد میں آ گئی ہیں۔

عائزہ خان کی حالیہ ڈرامہ سیریز “ہمراذ” میں اداکاری اور اسٹائل کو مداح کافی پسند کر رہے ہیں، جبکہ وہ برطانیہ سے اداکاری میں ڈپلومہ بھی کر رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: عائزہ خان اور دانش تیمور شوبز انڈسٹری چھوڑ کر کون سے ملک جانے کا سوچ رہے ہیں؟

اس یوم آزادی پر عائزہ خان نے 1991 میں شوکت خانم کینسر اسپتال کے لیے لاہور آمد کے دوران لیڈی ڈیانا کے مشہور سبز رنگ کے لمبے لباس اور سفید دوپٹے کا انداز اپنایا۔ عائزہ نے ہلکے سبز کے بجائے گہرے سبز رنگ کی شرٹ، شلوار اور سفید دوپٹے کے ساتھ یہ لک دوبارہ تخلیق کی۔

سوشل میڈیا صارفین نے عائزہ خان پر اس انداز کی نقل کرنے پر سخت تنقید کی۔ بعض نے کہا کہ وہ لیڈی ڈیانا کی وقار اور شخصیت کی نقل نہیں کر سکتیں۔

مزید پڑھیں: عائزہ خان اور دانش تیمور کی بیٹی کا پہلا روزہ، تصاویر وائرل

کچھ صارفین نے کہا کہ یہ انداز برطانوی راج کی یاد دلاتا ہے، جس سے پاکستان نے آزادی حاصل کی تھی، اور انہیں چاہیے تھا کہ وہ محترمہ فاطمہ جناح جیسے قومی رہنما کی طرز اپناتیں۔

ایک مداح نے لکھا کہ اداکار ہمیشہ غلام رہیں گے، یہ ان سے نقل کر رہی ہیں جن سے ہمیں آزادی ملی، جبکہ ایک اور نے کہا کہ لیڈی ڈیانا حقیقی خوبصورت تھیں اور عائزہ مصنوعی خوبصورتی دکھا رہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

لیڈی ڈیانا معروف اداکارہ عائزہ خان،.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: لیڈی ڈیانا معروف اداکارہ عائزہ خان لیڈی ڈیانا

پڑھیں:

جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی

تہران:

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔

 

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔

مزید پڑھیں

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔

ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز