ربیع الاول کا چاند کب نظر آئے گا؟ سپارکو کی پیش گوئی سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 15th, August 2025 GMT
پاکستان بھر کے مسلمان ایک بار پھر ایمان، محبت اور عقیدت سے بھرے مہینے ربیع الاول — کا استقبال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اسی سلسلے میں اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) نے چاند نظر آنے سے متعلق اپنی پیش گوئی جاری کر دی ہے۔
سپارکو کے مطابق ربیع الاول 1447 ہجری کے نئے چاند کی پیدائش 23 اگست 2025 کو صبح 11 بج کر 6 منٹ پر متوقع ہے۔ اگلے دن یعنی 24 اگست کو چاند کی عمر تقریباً 32 گھنٹے اور 13 منٹ ہوگی، جو کہ چاند دیکھنے کے لیے ایک مناسب دورانیہ ہے۔
مزید بتایا گیا ہے کہ خاص طور پر ساحلی علاقوں میں چاند اور سورج کے غروب ہونے کے درمیان تقریباً 45 منٹ کا وقفہ ہوگا، جو چاند دیکھنے کے لیے سازگار صورتحال پیدا کرے گا — بشرطیکہ موسم صاف ہو۔
اس حساب سے ربیع الاول کا آغاز 25 اگست 2025 (اتوار) کو ہونے کا قوی امکان ہے، جبکہ 12 ربیع الاول — وہ دن جسے مسلمان بطور میلاد النبیؐ عقیدت و احترام سے مناتے ہیں 5 ستمبر 2025 (جمعہ) کو ہونے کی توقع ہے۔
یہ دن مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔ عاشقانِ رسول ؐ درود و سلام کی محفلیں سجاتے ہیں، نعت خوانی ہوتی ہے، قرآنِ پاک کی تلاوت کی جاتی ہے، جلوس نکالے جاتے ہیں اور جگہ جگہ اتحاد، رواداری اور محبت کا پیغام عام کیا جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ربیع الاول
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ