معروف امریکی یونیورسٹی کے ٹاپر طالبعلم کا سالہا سال کا تعلیمی کیریئر صرف اس وجہ سے معطل کر دیا گیا ہے کہ اسنے اپنی گریجویشن تقریب میں "غزہ میں جاری نسل کشی" کیخلاف بات کی ہے، جس پر مغربی صارفین نے اپنے گہرے غم و غصے کا اظہار کیا ہے اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی نیویارک یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ لوگن روزوس؛ وہ طالب علم کہ جس نے اپنی گریجویشن کی تقریر میں اسرائیلی حملوں پر تنقید کی تھی، نے اس یونیورسٹی کے قوانین کی "خلاف ورزی" کی ہے اور اسے متعدد "تادیبی کارروائیوں" کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔ آج منعقد ہونے والی گریجویشن کی تقریب سے خطاب میں فلسطینی حامی امریکی طالب علم لوگن روزوس نے، یونیورسٹی سے منظور شدہ متن سے قطع نظر، اس بات پر زور دیا کہ امریکی حکومت ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے غزہ میں جاری نسل کشی پر مبنی اسرائیلی مہم جوئی کی عسکری و سیاسی طور پر اندھی حمایت کر رہی ہے۔ لوگن روزوس کے ریمارکس کو نہ صرف اس تقریب میں موجود لوگوں کی جانب سے "زبردست" سراہا گیا بلکہ سائبر صارفین کی جانب سے بھی اس ہونہار طالب علم کی بڑے پیمانے پر حوصلہ افزائی کی گئی۔
-
  مغربی ممالک کے ساتھ تعلق رکھنے والے صارفین نے فلسطینی حامی اس امریکی طالب علم کی ہمت کو سراہا اور نیویارک یونیورسٹی کی جانب سے لوگن روزوس کی ڈگری معطل کئے جانے کے فیصلے کی شدید مذمت کی۔ سائبر صارفین نے فلسطین کی حمایت کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ نیویارک یونیورسٹی کو کوئی حق حاصل نہیں کہ وہ غزہ کے بے دفاع لوگوں کی حمایت میں "صرف ایک تقریر" کرنے کی وجہ سے اس طالب علم کی برسوں کی محنتوں کو یکسر نظر انداز کر دے۔

اس بارے ایک صارف نے اپنی نظر بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اس نے اپنی ڈگری حاصل کر لی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ ایسے طلبہ کا ہونا نیویارک یونیورسٹی کے لئے باعث فخر ہونا چاہیئے تھا جو "ایسی ناانصافیوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتا ہے جس میں خود امریکہ بھی ملوث ہے"! اس صارف نے لکھا کہ "ہم بھیڑیں نہیں!" ایک دوسرے صارف نے امریکہ میں تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ اگر ہم طلباء کو بے دفاع لوگوں کی زندگیوں کی پرواہ کرنا نہیں سکھائیں گے، تو تعلیم کا مقصد ہی کیا ہے؟.

. جمہوریتیں اسی طرح سے مرتی ہیں!! ایک اور صارف نے لکھا کہ کیا دنیا الٹی ہو چکی ہے..؟ وہ ایک ایسے شخص کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں کہ جو اسرائیلی جرائم کے خلاف بات کرتا ہے.. کیا انہیں اس طالبعلم کی حمایت نہیں کرنی چاہیئے تھی؟؟ وہ بہت بہادر ہے، دنیا کو اس جیسے مزید انسانوں کی ضرورت ہے.. اور وہ زندگی کی تمام اچھائیوں کا اہل ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یونیورسٹی کے لوگن روزوس طالب علم کی حمایت نے اپنی لکھا کہ علم کی

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت