اسلام آباد میں وفاقی وزیر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ہمارے فری لانسرز کی بھی پچاس لاکھ ڈالر سے زائد کی اِن پٹ ہے، اسکو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہماری آئی ٹی برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے دس مہینوں ہی میں ہماری آئی ٹی برآمدات 3.

14 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جبکہ گزشتہ پورے مالی سال میں پاکستان کی آئی ٹی برآمدات کی مجموعی آمدنی 3.2 ارب ڈالر تھی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ ہمارے فری لانسرز کی بھی پچاس لاکھ ڈالر سے زائد کی اِن پٹ ہے، اسکو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ہماری آئی ٹی برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے بھی تجاوز کرچکی ہیں، اس معاملے کا مزید اہم پہلو یہ ہے کہ ہماری آئی ٹی برآمدات، آئی ٹی درآمدات سے2.7 ارب ڈالر زیادہ ہیں گویا اس شعبے میں توازن تجارت واضح طور پر ہمارے حق میں ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں انٹرنیٹ تک رسائی 58.4 فیصد تک پہنچ چکی ہے یعنی 14 کروڑ سے زائد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں جبکہ موبائل تک رسائی 79.4 فیصد ہے جن میں سات کروڑ 29 لاکھ سمارٹ فون صارفین شامل ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ کی سست رفتاری آئی ٹی ماہرین کیلئے مشکلات کا ایک بڑا سبب ہے۔ اس کی وجہ سے بیرونی گاہکوں کے مطالبات پورے کرنے میں تاخیر ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فائیو جی انٹرنیٹ متعارف کرا دیا جائے تو پاکستانی آئی ٹی برآمدات میں مزید تیزی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔

وفاقی وزیر تجارت کے بقول پانچ سال میں برآمدات کو 60ارب ڈالر تک لے جانے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی آج کی دنیا میں معیشت کا سب سے زیادہ تیزی سے ترقی کرتا ہوا شعبہ ہے اور پاکستان اس میدان میں اپنے بہترین صلاحیتوں کے حامل ماہرین کی بدولت بہت آگے جانے کی پوری اہلیت رکھتا ہے۔ کسی بھی ملک کی معاشی صورتحال کا سب سے معتبر پیمانہ اسکی برآمداتی آمدنی ہوتی ہے، حکومت پاکستان برآمدات سے ہونیوالی آمدنی کو بڑھانے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ہماری ا ئی ٹی برا مدات ا ئی ٹی برا مدات 3 وفاقی وزیر ارب ڈالر ڈالر سے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ