ویب ڈیسک:  وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے ٹیکس نظام کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے سخت مگر ضروری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ ٹیکس دینے والوں کو سہولیات جبکہ چوری کرنے والوں کو کسی رعایت کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔

وزیرِ اعظم کی زیر صدارت ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کے امور اور اصلاحات پر جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزراء، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

انجلینا جولی کا شہید خاتون فلسطینی صحافی کو خراج عقیدت ، ویڈیو وائرل

وزیراعظم نے دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے واضح کیا کہ ٹیکس چوروں کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی جائے گی جبکہ ٹیکس دینے والے افراد اور کاروبار کو سہولت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ 70 برس کے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کے لیے سخت فیصلے ناگزیر ہیں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرائے جا رہے ہیں، جن میں شامل ہیں جس میں سیلز ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے متعارف کیا جا رہا ہے جس کے تحت مصنوعات کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کو ای-ٹیگ اور ڈیجیٹل ڈیوائسز کے ذریعے مانیٹر کیا جائے گا۔ مصنوعات کی نقل و حرکت کے لیے ایف بی آر کے ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر ای بل جاری کیا جائے گا۔ اس سے نہ صرف شفافیت بڑھے گی بلکہ شہریوں کو چیک پوائنٹس پر رکنے کی زحمت سے نجات ملے گی۔

اسلام آباد ائیرپورٹ پر اے ایس ایف اہلکار کا مسافر پر مبینہ تشدد، واقعے کی ویڈیوز وائرل

اس کے علاوہ تمام بڑی شاہراہوں اور شہروں کے داخلی راستوں پر جدید ڈیجیٹل چیکنگ سسٹم نصب کیا جائے گا۔مزید یہ کہ بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں پر درآمدات و برآمدات کی ڈیجیٹل نگرانی کے لیے کسٹم ٹارگٹنگ سسٹم لایا جا رہا ہے جو مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام میں مدد دے گا۔

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن اور نظام کی خودکاری پر کام مزید تیز کیا جائے اور اصلاحاتی ایجنڈے کو جلد مکمل کیا جائے تاکہ معاشی ڈھانچے میں بہتری لائی جا سکے۔

 سٹی @ 10 ، 20 مئی،2025

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ایف بی آر کیا جائے کیا جا کے لیے

پڑھیں:

پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟

پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔

تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں:

البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔

’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4  ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘

مزید پڑھیں:

گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔

’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘

انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں:

’اگر ہفتے میں 2  دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘

ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔

گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔

’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف