وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ تمام مسائل کا پرامن حل چاہتے ہیں،دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا،پاک نیوی نے خطے میں طاقت کا توازن بدل دیا،دفاعی محاذ کی طرح معاشی میدان میں بھی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو پاکستان نیوی ڈاک یارڈ کے دورے کے دوران پاک بحریہ کے افسران و جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر،  چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف  ، ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو،  پاکستان نیوی کے چاق چوبند اور نڈر، بہادر افسران اور قوم کے عظیم بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔اس جنگ میں پوری پاکستانی قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی تھی اور کھڑی ہے ، بری  ، فضائی اور بحری  افواج کے درمیان چولی دامن کا ساتھ تھا، ہے اور رہے گا، اس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ عزت بخشی جو  ہمیشہ سنہرے حروف سے   لکھی جائے گی۔ جس طریقے سے بری فوج نے الفتح میزائلوں کے ذریعے اور دوسرے فوجی ہتھیاروں کے ذریعے دشمن کے ٹھکانوں پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگائے،  اسی طرح  ہماری فضائی فوج نے دشمن کے ٹھکانوں پر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کو وہ سبق سکھایا جو قیامت تک دشمن یاد رکھے گا، اسی طریقے سے ہماری بحری فوج کی بھی تیاری ویسی ہی تھی جس طرح بری اور فضائی افواج کی تھی۔انہوں نے کہا  کہ 1965 میں  آپ نے دشمن کو سبق سکھایا تھا،اس مرتبہ بھی  آپ تیار تھے لیکن دشمن کو ہماری بحری فوج کی تیاری  دیکھ کرہمت نہیں پڑی۔جس طرح بری  اور فضائی  افواج کے ہاتھوں ان کی  پٹائی کی گئی،  شاید وہ مزید پٹنے کے لئے اور مزید رسوا  ہونےکے لئے تیار نہیں تھا، الحمد للہ کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور کراچی شہر اور تمام تجارتی بحری آمد و رفت  کا کوئی بال بیکا نہیں کر سکا، یہ تاریخ کا ایک قابل فخر واقعہ ہے جس نے پاکستان کو پہلے بھی، آئندہ کے لئے بھی ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  میں اس موقع پر پی این ایس مہران کے شہید لیفٹیننٹ یاسر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے جان کی پروا کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہو کر اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان کے وقار اور بحری اثاثوں کے اوپر آنچ نہیں آنے دی، یہ تمام غازی اور شہداء ہمارا پوری قوم کا سرمایہ افتخار ہیں۔ہم آپ کو ، غازیوں کو ،شہدا کو اور ان کے خاندانوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا  بھارت کی حالیہ ناکام اور ہزیمت آمیز مہم جوئی میں دنیا نے ایک بار پھر دیکھ لیا کہ ہماری بحریہ مکمل طور پر تیار تھی، بحری ہتھیار مقررہ پوزیشن پر نصب کر دیئے گئے تھے اور ہماری بحریہ ایک مرتبہ پھر دوارکا، کی یادیں تازہ کرنے کے لئے تیار تھی، بھارت کا فخریہ ایئر کرافٹ بیریئر وکرانت 400 ناٹیکل میل سے قریب آنے کی جرأت نہ کر سکا، یہ بھی بے مثال دفاعی حکمت عملی اور آپ کے غیر متزلزل عزم کی زندہ مثال ہے، پوری قوم کو یقین تھا کہ اگر بھارت نے کسی بھی سطح پر بحری جارحیت کی غلطی کی تو اسے آپ اپنی فوری اور موثر کارروائی سے  اس کو ہمیشہ کے لئے سبق سکھائیں گے  اوروہ دوبارہ پاکستان کی طرف بری نیت سے رخ نہ کر سکے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ آپ کی یہ کامیابی افواج پاکستان کی مربوط حکمت عملی اور بالخصوص سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر کی بہترین کو آرڈینیشن کی مرہون منت ہے جس نے پوری قوم کے عزم اور حوصلہ کو نئی توانائی بخشی، میرے قوم کے عظیم غازیو، بہادر افواج پاکستان کی ان کامیابیوں پر ہم سب اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور شکر سے سجدہ ریز ہیں اور ہمیشہ رہیں گے،  اہم بات یہ کہ اس امتحان کے دوران ہماری بندرگاہیں مکمل طور پر فعال رہیں، کراچی اور بن قاسم پر تجارتی جہاز بلاتعطل آتے جاتے رہے جبکہ بھارت کے مغربی ساحل پر تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئیں، بھارتی نیوی   جس کی تعداد ہم سے پانچ گنا بڑی ہے، اس پوری صورتحال میں مکمل طور پر مفلوج دکھائی دی، رافیل جہازوں کا حشر دیکھ کر ان کا نام نہاد وکرانت میدان جنگ سے یوں بھاگا کہ پلٹنے کا نام تک نہ لیا، یعنی ہماری شارکس نے ہندوستانی وہیل کو مار بھگایا، انہوں نے کہا کہ جس طرح پاکستان نیوی نے گزشتہ 15 برسوں میں غیر معمولی ترقی کی ہے اس پر میں آپ سب کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف اور   ان  کی پوری ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال اور بین الاقوامی اشتراک سے پاکستان نیوی کی کارکردگی میں بے پناہ اضافہ کیا، آج ہمارا دشمن خود اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ پاکستان نیوی نے خلیج فارس، بحیرہ عرب اور بحیرہ احمر میں طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے اور یہ آپ  پوری قوم کی فتح ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم ایک امن پسند قوم ہیں اور اپنے تمام تصفیہ طلب مسائل کا پر امن حل چاہتے ہیں لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن ہمیں ہمیشہ تیار پائے گا، ہم جارحانہ عزائم نہیں رکھتے، لیکن ہم اپنے وطن عزیز کے ایک ایک انچ کا تحفظ کرنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں، پوری قوم کی جانب سے میں اپنی بہادر افواج اور سپہ سالار جنرل سید عاصم منیر، ایئر چیف مارشل ظہیر بابر اور نیول چیف نوید اشرف اور  افسروں اور جوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں  جنہوں نے پاکستان کی بری ، فضائی اور بحری سرحدوں اور بندرگاہوں کی حفاظت کی اور دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیئے، انہوں نے کہا کہ تمام برادر اور دوست ممالک کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے اس مشکل وقت میں نہ صرف بھرپور ساتھ دیا بلکہ ہمارا حوصلہ بڑھایا اور پاکستان کے موقف کی بھرپور تائید کی ۔ اگر پاکستان  پہلگام کے افسوسناک واقعہ    کا عالمی سطح پر شفاف تحقیقات کرانا چاہتا ہے تو ہندوستان کو اس میں کیا اعتراض ہے،میں اپنے انتہائی شفیق بھائی ترک صدر طیب اردوان ،انتہائی بہترین بھائی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، صدر یو اے ای محمد بن زید  اور امیر  قطر، آذربائیجان کے صدر  اپنے دیرینہ دوست چین کا ایک مرتبہ پھر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ چین  ہماراوہ  پائیدار دوست ہے جس نے ہر برے وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا،  ہماری 77 سال کی تاریخ اس بات کی پکار پکار کر گواہی دیتی ہے۔چین  آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑاہے اور کل بھی رہے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ  میں  امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شُکریہ ادا کرتا ہوں انہوں نے جنگ کی  یہ سلگتی آگ بجھائی ۔انہوں نے وقت پر بھانپا کیونکہ دونوں نیوکلیئر ممالک ہیں، صدرٹرمپ امن پسند شخصیت ہیں اور امن کی خاطر انہوں نے اور ان کی ٹیم نے صدق دل کے ساتھ اس پر کام کیا  اورجنگ بندی میں کلیدی کردار ادا کیا۔انہوں نے حقیقتاً ایک اچھے خیر خواہ دوست کا کردار ادا کیا ۔انہوں نے کہا کہ میں کشمیر کے حوالے سے بھی   اپنا مخلصانہ کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ داستان ہے جس نے  اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے آپ کی بہادری کی بدولت دنیامیں اعلی مقام پر دوبارہ لا کھڑا کیا ہے۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وفاقی وزیر برائے تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ پاکستان نیوی ادا کرتا ہوں پاکستان کے پاکستان کی پوری قوم ہے جس نے دشمن کے کے لئے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری