کانگریس صدر نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں مودی نے 151 غیر ملکی دورے کئے اور 72 ممالک کا دورہ کیا پھر بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے تحت ہمارا ملک اکیلا پڑچکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پہلگام میں دہشت گردانہ حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اب اس معاملے کو لے کر کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر بڑے الزام لگائے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ اگر پہلگام میں سیکورٹی فراہم کی جاتی تو لوگوں کی ہلاکتیں نہ ہوتیں۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ نریندر مودی کشمیر نہیں گئے کیونکہ سیکورٹی ایجنسیوں نے انہیں منع کیا تھا۔ کانگریس کے صدر ملکارجن کھرگے نے کہا کہ کشمیر میں 26 لوگ مارے گئے کیونکہ مودی حکومت نے وہاں سیاحوں کو سیکورٹی فراہم نہیں کی۔

کانگریس صدر نے کہا کہ مودی کشمیر اس لئے نہیں گئے کیونکہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے سیاحوں کو وہاں (پہلگام) جانے سے کیوں نہیں روکا، اگر آپ انہیں بتا دیتے تو 26 لوگوں کی جانیں بچائی جاسکتی تھیں اور یہ جنگ بھی رک سکتی تھی۔ ملکارجن کھرگے نے خارجہ پالیسی پر بھی مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی گزشتہ 11 سالوں سے مسلسل غیر ملکی دورے کر رہے ہیں لیکن جب بھارت کو پاکستان کو بے نقاب کرنے کے لئے بین الاقوامی حمایت کی ضرورت پڑی تو کوئی ملک ہمارا ساتھ دینے کے لئے آگے نہیں آیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 سالوں میں مودی نے 151 غیر ملکی دورے کئے اور 72 ممالک کا دورہ کیا، ان میں سے وہ 10 بار امریکہ کا دورہ کر چکے ہیں، پھر بھی مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کے تحت ہمارا ملک اکیلا پڑچکا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کو 1.

4 بلین ڈالر کا بیل آؤٹ قرض دیا تھا لیکن کسی نے بھی ہندوستان کے موقف کی حمایت نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہماری بہادر مسلح افواج دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہی تھیں تو اچانک جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ امریکی صدر نے یہ کہہ کر ہمارے ملک کی توہین کی ہے کہ میں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کی۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ مودی حکومت

پڑھیں:

سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب

فائل فوٹو 

سپریم کورٹ نے اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا۔

کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی، جسٹس عرفان سعادت نے کہا کہ درخواست 25 دن تاخیر سے دائر کی گئی۔

پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر توہین عدالت کی درخواست شہداء کےلواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، پشاور ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست خارج کردی تھی۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہیں ملا۔

جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ اگر کوئی پیکیج ملا ہے تو سب کو دیں،  وفاقی حکومت بتائے کہ پشاور ہائیکورٹ فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔

کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان