امریکہ پاک بھارت جنگ روکنے کیلئے کردار ادا کر سکتا ہے تو اسے فلسطینی کیوں نظر نہیں آرہے، ثروت اعجاز قادری
اشاعت کی تاریخ: 20th, May 2025 GMT
پی ایس ٹی کے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بھی ایسی قوتیں موجود ہیں جو دنیا میں امن کو قائم رکھنے کے لیے ہر حد تک جا سکتی ہیں، اگر عالمی طاقتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر سب کے سروں پر ایک ایسی جنگ مسلط ہوگی جس کا انجام نہایت ہی بھیانک ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ غزہ میں اسرائیل کی جانب سے زمینی اور فضائی حملوں میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، غزہ میں رہنے والے مظلوموں کے مکانات کو فضائی حملوں کے ذریعے مسمار کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان سنی تحریک کے چیئرمین انجینئر محمد ثروت اعجاز قادری نے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ جب پاک بھارت جنگ روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کر سکتا ہے تو اسے فلسطینی کیوں نظر نہیں آرہے ہیں، تمام امت مسلمہ اچھی طرح یہ بات ذہن نشین کرلے جہاں کہیں پر بھی کفار کو مسلمانوں کے سامنے شکست کا سامنا ہوگا وہاں پر فوری طور پر عالمی طاقتیں اپنی ٹانگ آڑائیں گی، اس بات کی زندہ مثال بھارت کی شکست کی ہے، جب پاکستان نے دفاعی انداز میں بھارت کو اپنے نرغے میں لینا چاہا تو فوری طور پر امریکہ سامنے آگیا، دنیا میں امن کے لیے اقوام متحدہ اور او آئی سی کا کردار مشکوک ہوتا جا رہا ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں صرف نام انسانی حقوق کا استعمال کرتی ہیں مگر ان کا کام بھی صرف مسلمانوں کو اذیتیں دینا ہے، عالمی طاقتیں صرف اپنے سائے میں پلنے والوں کی حمایت کرتی ہیں، یہ بات بھی اب واضح ہوتی جا رہی ہے کہ تمام اسلام مخالف قوتیں متحد ہوکر مسلمانوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
ثروت اعجاز قادری کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیلی دہشتگرد روزانہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہے ہیں، اسرائیل عالمی قوانین کی کھل کر خلاف ورزی کر رہا ہے مگر اس کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہیں ہے، اسرائیلی مسلح دہشتگرد مظلوم فلسطینیوں کو شہید کر رہے ہیں، اسرائیل کا غزہ پر قبضہ کرنے کے خواب کی تعبیر الٹی ہوگی، حکومت پاکستان کو چاہیئے کہ تمام مسلم ممالک کا ایک فارورڈ بلاک بنا کر اسلام مخالف قوتوں کو منہ توڑ جواب دیں، اگر ہم اسی طرح علیحدہ علیحدہ بٹے رہے تو وہ دن دور نہیں جب اسلام مخالف قوتیں ایک ایک کرکے سب کو کھا جائیں گی، تمام امت مسلمہ کے یکجا ہونے میں ہی مسلمانوں کی بھلائی ہے، پوری دنیا کو یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آگئی ہے کہ پاکستان کے سامنے کسی کا بھی ٹھہرنا ممکن نہیں، پاکستان کے ساتھ بھی ایسی قوتیں موجود ہیں جو دنیا میں امن کو قائم رکھنے کے لیے ہر حد تک جا سکتی ہیں، اگر عالمی طاقتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو پھر سب کے سروں پر ایک ایسی جنگ مسلط ہوگی جس کا انجام نہایت ہی بھیانک ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
دنیا ایک بار پھر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک غلط فیصلہ، ایک غلط اندازہ یا ایک بے قابو فوجی کارروائی پورے مشرقِ وسطی کو جنگ کی آگ میں جھونک سکتی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری عسکری کشیدگی اب صرف دو ممالک کا تنازع نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت تک پھیلنے لگے ہیں۔ ایسے نازک ماحول میں ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی کا اسلام آباد کا دورہ اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ان کی ون آن ون ملاقات معمول کی سفارتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک اہم علاقائی پیش رفت کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، پاک ایران تعلقات، سرحدی تعاون اور موجودہ جنگی ماحول پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اگرچہ ملاقات کی مکمل تفصیلات سرکاری سطح پر جاری نہیں کی گئیں، تاہم اس وقت کا انتخاب خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم رابطہ کار اور ممکنہ ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔اگر ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات خلیج تک محدود نہیں رہیں گے۔ بحیرہ احمر، آبنائے ہرمز، عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں۔ اگر اس تنا میں حوثی تحریک اور سعودی عرب براہِ راست آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو پورا خطہ ایک نئے بحران میں داخل ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں کئی علاقائی اور عالمی طاقتوں کے مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ غیر معمولی حد تک وسیع ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایسی صورتِ حال لازما “منی ورلڈ وار” میں تبدیل ہو جائے گی، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر متعدد علاقائی اور بین الاقوامی فریق براہِ راست اس تنازع میں شامل ہو گئے تو اس کے اثرات عالمی سلامتی، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر انتہائی گہرے ہوں گے۔ایسے حالات میں پاکستان کی اہمیت کئی وجوہات کی بنا پر بڑھ جاتی ہے۔ پاکستان کے ایران، سعودی عرب، چین، امریکہ اور دیگر مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہیں۔ یہی متوازن تعلقات اسلام آباد کو ایسے ممالک میں شامل کرتے ہیں جو کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔گزشتہ مہینوں میں بھی پاکستان نے سفارتی سطح پر ایران اور امریکہ کے درمیان رابطوں کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا اظہار کیا تھا۔ اب جبکہ ایرانی وزیر داخلہ براہِ راست اسلام آباد پہنچے ہیں اور انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقاتیں کی ہیں، تو یہ تاثر مزید مضبوط ہوا ہے کہ پاکستان کو خطے میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عسکری اور سفارتی سطح پر ہونے والی سرگرمیوں پر بھی خطے کے دارالحکومتوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ اگرچہ کسی نئی ثالثی یا معاہدے کے بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنے متوازن خارجہ تعلقات کو امن کے فروغ کے لیے استعمال کرے۔دنیا کو اس وقت جنگی نعروں سے زیادہ امن کے پیغام کی ضرورت ہے۔ مشرقِ وسطی پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار ہے، اور ایک نئی وسیع جنگ نہ صرف لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی فراہمی اور بین الاقوامی استحکام کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔آج اسلام آباد صرف ایک دارالحکومت نہیں بلکہ امید کی ایک ممکنہ کرن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اگر پاکستان اپنی سفارتی صلاحیت، متوازن پالیسی اور تمام فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں بروئے کار لاتا ہے تو وہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔تاریخ میں بعض اوقات جنگیں طاقت سے نہیں بلکہ بروقت سفارت کاری سے رکی ہیں۔ شاید یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ ہے، جہاں بندوقوں کی گھن گرج سے زیادہ اہمیت مذاکرات کی میز کو حاصل ہو سکتی ہے۔مشرقِ وسطی کی موجودہ جنگ کا سب سے خطرناک پہلو صرف میزائلوں کا تبادلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی شہ رگوں پر منڈلاتا ہوا خطرہ ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی پہلے ہی عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ چکی ہے اور اگر حالات مزید بگڑتے ہیں یا وہاں سے تیل کی ترسیل بری طرح متاثر ہوتی ہے، جبکہ دوسری طرف باب المندب بھی حوثی کارروائیوں کے باعث غیر محفوظ ہو جاتا ہے، تو دنیا ایک غیر معمولی تیل و گیس بحران سے دوچار ہو سکتی ہے۔پاکستان کے لیے یہ خطرہ محض عالمی خبروں تک محدود نہیں۔ سعودی عرب سے آنے والے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کا ایک اہم حصہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے بحری راستے سے گزرتا ہے۔ اگر ان آئل ٹینکروں پر حملے شروع ہو جاتے ہیں یا جہاز رانی شدید متاثر ہوتی ہے تو پاکستان کو ایندھن کی سپلائی، درآمدی لاگت، مہنگائی، زرمبادلہ کے ذخائر اور توانائی کے بحران جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اسی لیے پاکستان اس وقت ایک انتہائی نازک سفارتی توازن پر کھڑا ہے۔ ایک طرف ایران ہمارا برادر اور ہمسایہ اسلامی ملک ہے، دوسری طرف سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست، اہم اقتصادی شراکت دار اور توانائی کی ضروریات پوری کرنے والا بڑا ملک ہے۔ اسلام آباد کے لیے دونوں ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنا محض خارجہ پالیسی نہیں بلکہ قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا تقاضا ہے۔ایران اور یمن کے حوثی رہنماں کو بھی پاکستان کی اس مجبوری اور حساس پوزیشن کا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن سے پاکستان آنے والے توانائی کے بحری راستے متاثر ہوں یا پاکستان کے مفادات براہِ راست خطرے میں پڑ جائیں، تو خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور غیر متوقع رخ اختیار کر سکتی ہے۔ ایسی صورت میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطی ایک وسیع تر بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے، جس کے اثرات ایشیا، یورپ اور عالمی معیشت تک محسوس کیے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کی نظریں ایک مرتبہ پھر اسلام آباد پر لگی ہوئی ہیں۔ اگر پاکستان اپنی متوازن سفارت کاری، علاقائی اعتماد اور تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ موجود روابط کو مثر انداز میں استعمال کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ وہ ایک بار پھر جنگ کے شعلوں کو پھیلنے سے روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مثبت کردار ادا کر سکے۔ کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیل گیا تو اس کی تپش صرف خلیج تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورا خطہ واقعی آگ کے الا میں تبدیل ہو سکتا ہے۔