معصوم بچوں کو نشانہ بنانا ناقابلِ معافی جرم ہے، امیر مقام
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر برائے امور کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران، انجینئر امیر مقام نے خضدار میں اسکول بس پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس واقعے کو انسانیت سوز دہشت گردی قرار دیا ہے۔
اپنے بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنانا ایک ناقابلِ معافی جرم ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا اور زخمی بچوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا بھی کی۔
انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بچوں کی شہادت پر پوری قوم غمزدہ ہے اور اس المناک سانحے نے ہر دل کو افسردہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلاشبہ بچوں پر حملے بھارت کی پشت پناہی میں سرگرم دہشت گردوں کی شکست اور مایوسی کی علامت ہیں۔
وفاقی وزیر نے یقین دلایا کہ قوم ان معصوم جانوں کی قربانی کو ہرگز رائیگاں نہیں جانے دے گی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قومی عزم مزید مضبوط ہوگا۔
Post Views: 8.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :