اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے خضدار میں اسکول بس پر بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردوں نے اسکول بس پر حملہ کرکے درندگی کی تمام حدیں پار کیں، بھارتی سرپرستی میں پلنے والے ان دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے۔

اپنے ایک بیان میں وزیراعظم نے دہشتگرد حملے میں معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کی شہادت پر رنج و ملال کا اظہار کیا اور بچوں کے والدین کے ساتھ ہمدردی کا اظہارکرتے ہوئے ذمہ داران کے فوری تعین اور انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی ہدایت کی۔

انہوں نے واقعے میں زخمیوں کو ترجیحی بنیادوں پر فوری طبی امداد فراہم کرنے کے ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگردوں کا اسکول بس میں معصوم بچوں پر حملہ ان کی بلوچستان میں تعلیم دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشتگردوں نے اسکول بس پر حملہ کرکے درندگی کی تمام حدیں پار کیں، بھارتی سرپرستی میں پلنے والے ان دھشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچا کر دم لیں گے، بھارتی حمایت یافتہ ان دھشتگردوں کے بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کیلئے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کے مستقبل، ننھے و معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے ان دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا، مجھ سمیت پوری قوم کی ہمدردیاں دھشتگردوں کی بربریت کا نشانہ بننے والے ان معصوم بچوں کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، سیکیورٹی فورسز اور حکومت پاکستان ملک سے دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے پر عزم اور متحد ہیں۔

صدر مملکت آصف علی زرداری کی بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دھشتگردوں کی جانب سے اسکول بس پر دہشت گرد حملے کی مذمت

صدر مملکت کا واقعہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والے 3 معصوم بچوں سمیت 5 افراد کی شہادت پر لواحقین کے ساتھ اظہار تعزیت

اپنے بیان میں آصف زرداری نے کہا کہ اسکول جانے والے معصوم بچوں پر حملے انسانیت سوز اور گھناؤنا جرم ہے، بھارت پاکستان کے خلاف دھشتگردوں کی حمایت میں ملوث ہے، بھارت کے حمایت یافتہ دھشتگردوں کا مکمل طور پر قلع قمع کریں گے۔

صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی حمایت سے ہونے والی دہشتگردی کو عالمی سطح پر بے نقاب کریں گے، بھارت پاکستان میں دہشتگردی کی کاروائیوں کیلئے دھشتگردوں کو سپورٹ فراہم کررہا ہے، دہشتگرد تعلیم اور انسانیت کے دُشمن ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد ملکی ترقی اور صوبے کی خوشحالی کے دشمن ہیں، دہشت گرد بلوچستان کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بھارتی سرپرستی میں اسکول بس پر معصوم بچوں نے کہا کہ پر حملہ والے ان

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا