بھارتی پروازوں کیلیے پاکستانی فضائی حدود کی مزید بندش سے متعلق فیصلہ کل متوقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کی جانب سے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کی جزوی بندش نے بھارتی ایئرلائنز کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے، اب تک بھارتی ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 8 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
بھارتی پروازوں پر مزید پابندیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کل متوقع ہے۔
بندش کے باعث بوئنگ 777 اور ائیر بس طیاروں کی تقریباً 150 پروازوں کو روزانہ 2 سے 4 گھنٹے اضافی سفر طے کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ فلائٹ آپریشنز کی پیچیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔
ایئر انڈیا کو صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایندھن کی مد میں 5 ارب روپے اضافی خرچ کرنے پڑے، جبکہ طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے مجبوری میں کیے گئے اسٹاپ اوورز کی وجہ سے مزید 3 ارب روپے کا خرچ ہوا۔
ذرائع کے مطابق، سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ایئرلائن ایئر انڈیا نے حکومتِ بھارت سے مالی امداد کی باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے تاکہ موجودہ صورتحال میں نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔