بھارتی پروازوں کیلیے پاکستانی فضائی حدود کی مزید بندش سے متعلق فیصلہ کل متوقع
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
کراچی:
پاکستان کی جانب سے بھارتی پروازوں کے لیے فضائی حدود کی جزوی بندش نے بھارتی ایئرلائنز کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے، اب تک بھارتی ایئرلائنز کو مجموعی طور پر 8 ارب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔
بھارتی پروازوں پر مزید پابندیوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ کل متوقع ہے۔
بندش کے باعث بوئنگ 777 اور ائیر بس طیاروں کی تقریباً 150 پروازوں کو روزانہ 2 سے 4 گھنٹے اضافی سفر طے کرنا پڑ رہا ہے، جس سے نہ صرف ایندھن کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے بلکہ فلائٹ آپریشنز کی پیچیدگی بھی بڑھ گئی ہے۔
ایئر انڈیا کو صرف گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایندھن کی مد میں 5 ارب روپے اضافی خرچ کرنے پڑے، جبکہ طویل فاصلے کی پروازوں کے لیے مجبوری میں کیے گئے اسٹاپ اوورز کی وجہ سے مزید 3 ارب روپے کا خرچ ہوا۔
ذرائع کے مطابق، سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ایئرلائن ایئر انڈیا نے حکومتِ بھارت سے مالی امداد کی باضابطہ درخواست بھی دے دی ہے تاکہ موجودہ صورتحال میں نقصانات کا ازالہ کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔