روز ہمارے خلاف نئے کیسز بنائے جارہے ہیں: علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
علیمہ خان — فائل فوٹو
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی ہمشیرہ علیمہ خان کا کہنا ہے کہ روز ہمارے خلاف نئے کیسز بنائے جارہے ہیں۔
بانی پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے انسداد دہشت گردی عدالت راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف آئے روز نئے نئے کیسز بنائے جارہے ہیں۔ آج بھی ہم عدالت میں ضمانتوں کے لیے پیش ہو رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی کی ہمشیرہ علیمہ خان کو 42 کیسز میں نامزد کر دیا گیا ہے۔
علیمہ خان نے مریم نواز کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پنجاب مریم نواز کے زیر انتظام ہے وہ خوف سے بھری ہوئی خاتون ہے۔
صحافی نے جب علیمہ خان سے سوال پوچھا کہ شیخ رشید بھی پیش ہوئے ہیں ان سے کیا بات ہوئی؟ تو انہوں نے کہا کہ شیخ رشید سے ٹرائل سے متعلق بات ہوئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔