علامہ ساجد میر کی خالی ہونیوالی سینیٹر کی نشست کیلئے ووٹنگ 29 مئی کو ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
سینٹ کی نشست پر ن لیگ کے امیدوار حافظ عبد الکریم اور پی ٹی آئی کے اعجاز منہاس میں مقابلہ ہوگا۔ پنجاب اسمبلی کا اپوزیشن کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے باعث ایوان 371 کی بجائے 341 ارکان پر مشتمل ہے۔ سینٹ کی نشست پر کامیابی کیلئے موجودہ تعداد کے مطابق امیدوار کو 171 ووٹ درکار ہونگے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب اسمبلی میں سینٹ کی خالی نشست پر ووٹنگ 29 مئی کو ہوگی۔ حکومتی اتحادی پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور ق لیگ نے (ن) لیگ کے امیدوار کی حمایت کا فیصلہ کر لیا۔ یہ نسشت علامہ ساجد میر کی وفات کے باعث خالی ہوئی تھی۔ ذرائع کے مطابق سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے اتحادی جماعتوں سے ووٹ کیلئے رابطہ کیا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے آئی پی پی کے رہنما شعیب صدیقی اور پیپلز پارٹی سے ووٹ کی درخواست کی، جس پر اتحادی جماعتوں نے ووٹ کیلئے رضامندی ظاہر کر دی۔ ق لیگ کے صوبائی وزیر چوہدری شافع حسین بھی نے لیگی امیدوار کی حمایت کا اعلان کر رکھا ہے۔
سینٹ کی نشست پر ن لیگ کے امیدوار حافظ عبد الکریم اور پی ٹی آئی کے اعجاز منہاس میں مقابلہ ہوگا۔ پنجاب اسمبلی کا اپوزیشن کو مخصوص نشستیں نہ ملنے کے باعث ایوان 371 کی بجائے 341 ارکان پر مشتمل ہے۔ سینٹ کی نشست پر کامیابی کیلئے موجودہ تعداد کے مطابق امیدوار کو 171 ووٹ درکار ہونگے۔ ن لیگ کے امیدوار کو اتحادیوں سمیت 236 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جبکہ پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے امیدوار کو 103 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سینٹ کی نشست پر لیگ کے امیدوار پنجاب اسمبلی امیدوار کو کی حمایت
پڑھیں:
اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں، این ڈی ایم اے
اسلام آباد:سینیٹر شیری رحمان کی زیرِ صدارت سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی کا اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی عمارت میں منعقد ہوا۔
چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے سینیٹ قائمہ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اس سال مون سون میں زیادہ بارشیں متوقع ہیں، پاکستان میں 26 یا 27 جون کو مون سون کے داخل ہونے کی توقع ہے، مون سون سیزن جولائی سے 15 ستمبر تک چلتا ہے تاہم اس سال مون سون تین چار روز قبل آئے گا۔
این ڈی ایم اے حکام نے بتایا کہ مون سون میں شمالی اور مشرقی پنجاب میں زیادہ بارش ہوگی، گلیشئرز کے پگھلنے سے لوکل فلڈز، نالوں میں طغیانی آئے گی، ملک میں موجودہ ہیٹ ویو کی 6 ماہ پہلے ایڈوائزری جاری کردی تھی، راجن پور اور ڈی جی خان میں بھی زیادہ بارشیں ہوسکتی ہیں، ان اضلاع کو زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
حکام نے بتایا کہ پنجاب میں درجہ حرارت میں دو سے تین ڈگری کا فرق آ رہا ہے، سندھ میں 2.5 ڈگری نارمل سے زیادہ درجہ حرارت ہو گا، کے پی میں 1.5 ڈگری فرق ہے۔
بریفنگ میں بتایا کہ پنجاب میں 344 ملی میٹر بارش ہوتی ہے جبکہ اس بار 388 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، شمالی مشرقی پنجاب میں بارش پچاس فیصد زیادہ ہوگی، جنوبی پنجاب میں بھی زیادہ بارش ہوگی۔
این ڈی ایم اے کے مطابق سلیمان رینج میں hill torrents نظر آ رہے ہیں، شمالی کے پی میں کم جبکہ جنوبی کے پی میں نارمل یا نارمل سے زیادہ بارش ہوگی۔ چترال اور گلیشیر والے کے پی میں بارش کم ہو گی۔
کے پی میں عام طور پر 243 ملی میٹر بارش ہوتی ہے، اس سال 300 ملی میٹر بارش ہو سکتی ہے، آزاد کشمیر میں بھی زیادہ بارش ہو گی، بلوچستان میں کم بارش ہوگی اور درجہ حرارت زیادہ ہوگا۔ مون سون میں کلاوڈ برسٹ بھی زیادہ ہوں گے۔
سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بھی ہم پر اثر انداز ہو سکتا ہے جس پر چئیرمین این ڈی ایم اے انعام حیدر ملک نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے پر اسٹڈی شروع کر رکھی ہے، بھارت کے پاس جو مغربی دریاؤں پر کیپیسٹی تھی وہ اس سے کم پانی استعمال کر رہے ہیں، اس سال basin میں 35 فیصد کم پانی ہوگا گزشتہ سال31 فیصد کم تھا۔