مسلم لیگ ن کا پارلیمانی پارٹی اجلاس، بھارتی جارحیت کیخلاف متفق مذمتی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
— فائل فوٹو
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیرِ صدارت مسلم لیگ ن کا پارلیمانی پارٹی اجلاس ہوا جس میں بھارت کے خلاف مذمتی قرارداد متفق طور پر منظور کی گئی۔
قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ اجلاس بھارتی جارحیت اور بلا جواز جنگ مسلط کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔
قرارداد کے متن میں مزید لکھا ہے کہ معصوم بچوں، خواتین سمیت پاکستان کے عام شہریوں اور مساجد کو شہید کیا گیا، اجلاس اپنے تمام شہداء کو عقیدت کے پھول پیش کرتا ہے، شہداء کے اہلخانہ کے حوصلے اور صبر کو خراج تحسین جبکہ غازیوں کو سلام پیش کرتا ہے۔
قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ اجلاس اپنی بہادر مسلح افواج کو سلام پیش کرتا ہے، مسلح افواج نے 6، 7، 10 مئی کو دشمن کا جدید ہتھیاروں اور جنگی جنون کا غرور خاک میں ملا دیا، اجلاس چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو اور پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف، فوج کے تمام افسران، جوانوں اور انٹیلی جنس اداروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
قرارداد کے متن میں مزید لکھا کہ مسلح افواج کی عسکری مہارت اور دفاع وطن کے بےمثال جذبے سے پاکستان اور اس کے 24 کروڑ عوام کے سر بلند ہوئے، اجلاس قائد مسلم لیگ (ن) نوازشریف کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے، نواز شریف نے تاریخ کے اس نازک اور فیصلہ کن مرحلے پر وفاقی حکومت کی رہنمائی کی، اُنہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں مسلسل مشاورت سے دفاع وطن کے کام میں حصّہ ڈالا۔
قرارداد کے متن میں یہ بھی لکھا ہے کہ اجلاس وزیرِاعظم شہباز شریف کو بھی زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہے، شہباز شریف نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے، معاشی و سیاسی استحکام لانے کےلیے قائدانہ کردار ادا کیا، شہباز شریف نے بھارت کی مسلط کردہ جنگ کے دوران دفاع وطن کے تقاضے نبھانے میں تاریخی کردار ادا کیا اور سیاسی و عسکری قیادت کے ساتھ بہترین نظم پیدا کرکے پاکستان کو دنیا میں سربلند کیا۔
قرارداد کے متن میں لکھا ہے کہ شہباز شریف نے بھارت کی اشتعال انگزیوں کے باوجود تدبر، حوصلے، ضبط و تحمل سے بروقت اور درست فیصلے کیے، عوام کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی۔
شہباز شریف نے عسکری، عوامی و سیاسی وجود کو یکجان کرکے قوم کو ایک وحدت بنا دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: قرارداد کے متن میں شہباز شریف نے پیش کرتا ہے لکھا ہے کہ
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔