خضدار سکول بس خودکش بم دھماکہ قابل مذمت، دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں،علامہ ریاض نجفی
اشاعت کی تاریخ: 21st, May 2025 GMT
صدر وفاق المدارس الشیعہ کا کہنا ہے کہ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے، 10 مئی جنگ میں بھارت کو پوری دنیا میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، مودی سرکار خفت مٹانے کیلئے پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی کرر ہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر علامہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے خضدار میں سکول بس پر خودکش بم دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگرد کسی رعایت کے مستحق نہیں، ان کا قلع قمع ضروری ہے۔ شہداء کے ورثا سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہوئے انہوں نے کہا بھارت ایک عرصے سے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے دہشتگردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ پاکستان نے 10 مئی کی پاک بھارت جنگ میں جس طرح سے شاندار کامیابی حاصل کی ہے، اس سے بھارت کو پوری دنیا میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس لئے مودی سرکارخفت مٹانے کیلئے پاکستان میں دہشتگرد گروہوں کی سرپرستی کرر ہی ہے۔
میڈیا سیل کی طرف سے جاری بیان میں حافظ ریاض نجفی کا کہنا تھا کہ بھارت کی بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں دہشتگردی کے ثبوت پاکستانی ادارے منظر عام پر لا چکے ہیں، اب عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ بھارت کی بدمعاشی اور دہشت گردی کو روکنے کے اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا بھارتی قیادت کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سرحدی اشتعال انگیزی، جنگ اور دہشتگردی سے کبھی کسی ملک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ پاکستان کے حوالے سے اب تک بھارت نے جتنے بھی منفی اقدامات کیے ہیں، اسے منہ کی کھانا پڑی ہے۔ لہٰذا مودی کھسیانی بلی کھمبہ نوچے کے مترادف حالات خراب کرنے کیلئے اشتعال انگزی پھیلا رہا ہے لیکن بھارتی عوام سمجھ چکے ہیں کہ مودی کی سازشیں اور چال بازیوں میں مزید آنیوالے نہیں، کیونکہ وہ بی جے پی کی انتہا پسندانہ ہندتوا سیاست کی کو مسترد کر چکے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی سرپرستی
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے